جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے بدھ کو کہا کہ سیول کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے خلاف جاری گرفتاری وارنٹس پر ہمیں بھی غور کرنا چاہیے، انہوں نے جنوبی کوریا کے کارکنوں کےسوار ہونے والےغزہ امدادی فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج کے قبضے کی شدید مذمت بھی کی۔
کابینہ اجلاس سے خطاب میں لی نے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکنے کی قانونی بنیاد پر سوال اٹھایا اور پوچھا کہ کیا وہ جہاز اسرائیلی بحری حدود میں داخل ہوا تھا یا کسی تسلیم شدہ سرحد کی خلاف ورزی ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا"تقریباً تمام یورپی ممالک نے نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری وارنٹس جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر وہ ان کے علاقوں میں داخل ہوا تو اسے گرفتار کریں گے۔ ہمیں بھی اس پر غور کرنا چاہیے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ"اسرائیل بین الاقوامی اقدار کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہیں اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے؛ ہم نے اسے بڑے طویل عرصے تک برداشت کیا ہے۔"
لی کا کہنا تھا کہ "غزہ کے لیے رضاکارانہ طور پر جانے والے جہازوں اور ہمارے شہریوں کے جہازوں کو قبضے میں لینے یا ڈبونے کی اسرائیل کے پاس کون سی قانونی بنیاد ہے؟ کیا غزہ پر اسرائیل کا حملہ اور قبضہ بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی نہیں ہے"؟
قومی سلامتی کے مشیر وی سونگ-لاک نے اس سوال پر کہا: "اس معاملے کی جانچ ضروری ہے ۔۔۔
لی نے دریافت کیا کہ کیا غزہ اسرائیلی علاقہ ہے۔ جس کا جواب دیتے ہوئے وی نے کہا: نہیں، یہ اسرائیلی علاقہ نہیں ۔"
لی نے کہا کہ"کیا ہمیں احتجاج نہیں کرنا چاہیے؟ حتیٰ کہ جنگی صورتِ حال میں بھی کیا تیسرے ملک کے جہاز ضبط کیے جا سکتے ہیں؟ یہ صرف قانون کا نہیں بلکہ بنیادی عام فہم کا معاملہ ہے، ہے نا؟"
اسرائیلی بحریہ نے حملہ کر کے قبضے میں جن بحری جہازوں کو قبضے میں لیا ہے اس پر دو جنوبی کوریائی شہری بھی سوار تھے۔
یہ فلوٹیلا، جس میں 50 سے زیادہ کشتیاں شامل تھیں، نے جمعرات کو ترکیہ کے بحیرۂ روم کے ضلع مارمرس سے روانہ ہو کر غزہ پر 2007 سے نافذ اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کی ایک نئی کوشش کی تھی۔
منتظمین نے کہا کہ مشن میں 426 افراد حصہ لے رہے تھے، جن میں 96 کا تعلق ترکیہ سے تھا ۔ دیگر شرکاء میں جرمنی، امریکہ، ارجنٹینا، آسٹریلیا، بحرین، برازیل، الجزائر، انڈونیشیا، مراکش، فرانس، جنوبی افریقہ، برطانیہ، آئرلینڈ، سپین، اٹلی، کینیڈا، مصر، پاکستان، تیونس، عمان اور نیوزی لینڈ کے شہری شامل تھے۔
فلوٹیلا پر حملہ پہلی بار نہیں ہوا۔
اسرائیلی افواج نے 29 اپریل سے 30 اپریل کی درمیانی شب بھی یونانی جزیرے کریٹ کے ساحل کے قریب گلوبل صمودامدادی فلوٹیلا پر حملہ کیا تھا۔












