ایشیا
3 منٹ پڑھنے
چین اور امریکا نے ٹیرف کم کرنے پر اتفاق کر لیا
چین اور امریکہ نے ایک دوسرے کے تحفظات کے حامل "مساوی پیمانے کی مصنوعات پر ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) کم کرنے پر اتفاق کیا ہے
چین اور امریکا نے ٹیرف کم کرنے پر اتفاق کر لیا
چین-امریکہ / AP

چین اور امریکہ نے ایک دوسرے کے تحفظات کے حامل "مساوی پیمانے کی مصنوعات پر ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) کم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ بیجنگ نے واشنگٹن سے طیاروں کی خریداری کی تصدیق کر دی ہے۔

 بیجنگ کی وزارتِ تجارت کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں یہ بات بتائی۔

یہ تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جمعہ کو چین کے تین روزہ سرکاری دورے کے اختتام کے بعد سامنے آئی ہے۔

ترجمان نے ہفتے کے روز بتایا کہ بیجنگ اور واشنگٹن نے ٹیرف میں کمی، سرمایہ کاری اور دوطرفہ تجارت سمیت دیگر امور پر بات چیت کے لیے ایک تجارتی کونسل قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ دونوں فریق تجارتی کونسل کے ذریعے متعلقہ مصنوعات پر ٹیرف میں کمی سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کریں گے اور اصولی طور پر ایک دوسرے کے تحفظات کی حامل مساوی پیمانے کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق ہیں۔"

تاہم، بیان میں ان مصنوعات کی وضاحت نہیں کی گئی جن پر ٹیرف کم کیا جائے گا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ دونوں فریقوں نے چین کی جانب سے امریکہ سے طیاروں کی خریداری کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کی طرف سے بیجنگ کو طیاروں کے انجن اور پرزوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے حوالے سے متعلقہ انتظامات طے کر لیے ہیں، اور متعلقہ شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ چین 200 بوئنگ طیارے اور جنرل الیکٹرک کے انجن خریدنے پر راضی ہو گیا ہے۔

بیجنگ نے کہا کہ دونوں فریقوں نے ایک خاص دائرہ کار کے اندر مصنوعات پر باہمی ٹیرف میں کمی جیسے انتظامات کے ذریعے زرعی مصنوعات سمیت دوطرفہ تجارت کے فروغ پر بھی اتفاق کیا ہے۔

دونوں فریق زرعی مصنوعات پر بعض غیر ٹیرف رکاوٹوں اور مارکیٹ تک رسائی کے مسائل کو حل کریں گے یا ان کے حل کو نمایاں طور پر آگے بڑھائیں گے۔

امریکی فریق ڈیری اور آبی مصنوعات کی خودکار حراست، واشنگٹن کو درمیانے درجے کے بونزائی (bonsai) کی برآمد، اور شانڈونگ میں ایویئن انفلوئنزا سے پاک زون کو تسلیم کرنے کے حوالے سے چین کے دیرینہ تحفظات کو حل کرنے کے لیے "سرگرمی" سے کام کرے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "چین بیف کی سہولیات کی رجسٹریشن اور بعض امریکی ریاستوں سے چین کو پولٹری گوشت کی برآمد کے حوالے سے امریکی تحفظات کو حل کرنے کے لیے بھی سرگرمی سے کام کرے گا۔"

ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان سربراہی ملاقات سے قبل 13 مئی کو دونوں ممالک کی اقتصادی اور تجارتی ٹیموں نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ملاقات کی تھی۔

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اکنامکس کے مطابق، اس وقت چینی برآمدات پر اوسط امریکی ٹیرف 47.5 فیصد ہے اور اس میں تمام اشیاء کا 100 فیصد شامل ہے۔

امریکی برآمدات پر چین کے اوسط ٹیرف 31.9 فیصد ہیں اور اس میں تمام اشیاء کا 100 فیصد شامل ہے۔

20 جنوری 2025 کو دوسری ٹرمپ انتظامیہ کے آغاز کے بعد سے امریکی ٹیرف میں 26.8 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ اسی مدت کے دوران چینی ٹیرف میں 10.7 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔