سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے عراق کی طرف سے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے تین ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا ہے۔
وزارت دفاع کے ترجمان ترکی المالکی نے بتایا کہ اتوار کی صبح عراقی علاقے سے سعودی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد ان ڈرونز کو مار گرایا گیا۔
المالکی نے اس بات پر زور دیا کہ مملکت "مناسب وقت اور جگہ پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔"
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب "مملکت کی خودمختاری، سلامتی اور اپنے شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کی خلاف ورزی کی کسی بھی کوشش کا جواب دینے کے لیے تمام ضروری آپریشنل اقدامات کرے گا اور ان پر عمل درآمد کرے گا۔"
فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں کے بعد سے علاقائی تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ تہران نے جواب میں اسرائیل کے ساتھ ساتھ خلیج میں امریکی اتحادیوں بشمول متحدہ عرب امارات کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کیے اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔
پاکستانی ثالثی کے ذریعے 8 اپریل کو جنگ بندی نافذ ہوئی تھی، لیکن اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کوئی مستقل معاہدہ کرنے میں ناکام رہے بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کر دی۔
حکام نے بتایا کہ اس سے قبل دن میں ایک ڈرون حملے کے باعث ابوظہبی میں ایک نیوکلیئر پاور اسٹیشن کے قریب آگ لگ گئی، تاہم کسی جانی نقصان یا تابکاری کی سطح پر اثر انداز ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
میڈیا آفس نے بتایا کہ ابوظہبی میں حکام نے الظفرہ کے علاقے میں براکہ جوہری پاور پلانٹ کے اندرونی احاطے سے باہر ایک بجلی کے جنریٹر میں لگنے والی آگ پر قابو پایا جو کہ ایک ڈرون حملے کی وجہ سے لگی تھی۔"












