بن گویر نے سوشل میڈیا پر اسرائیل کی ایک جیل میں فلسطینی خواتین قیدیوں کے خلاف چھاپے کے لمحات کی ویڈیوز شیئر کیں۔
فوٹیج میں ایک فلسطینی خاتون قیدی کہتی دکھائی دیتی ہے کہ جیل کے حالات انتہائی خراب ہیں اور انہیں بنیادی ذاتی ضروریات سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ وہ کہتی ہیں، "تین دن ہو گئے نہا نہیں سکے۔ ہمارے کپڑے صاف نہیں ہیں، حالات بہت خراب ہیں۔"
بن گویر نے طنزاً کہا، "جیل میں آپ کے اچھے دن ختم ہو گئے۔ اب یہی صورتِ حال ہے۔ ان کا سب سے بڑا ذمہ دار میں ہوں اور مجھے اس پر خوشی ہے۔"
حالات کی بہتری کا مطالبہ کرنے والی خاتون قیدی کے سوال پر بن گویر نے جواب دیا، "میں آپ کی کیوں مدد کروں؟"
انہوں نے طنزاً کہا،"یہ ہوٹل نہیں "۔
بن گویر کے قومی سلامتی کے وزیر مقرر ہونے کے بعد سے اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے خلاف حقوق کی پامالی میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیلی وزیر نے پہلے بھی کئی بار فلسطینی قیدیوں کے خانے کا دورہ کیا اور ان سے توہین آمیز انداز میں پیش آیا؛ ایک خاتون قیدی کے حالات بہتر کرنے کی درخواست پر انہوں نے کہا تھا، "یہ ہوٹل نہیں ہے۔"
فلسطینی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، اسرائیلی جیلوں میں 350 بچے اور 94 خواتین سمیت 9,500 سے زائد فلسطینی قید ہیں۔
بھوک، تشدد اور طبی بے توجہی جیسے سخت حالات کا سامنا کرنے والے درجنوں فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں ناروا سلوک کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔




















