دنیا
3 منٹ پڑھنے
گوتریش: دو ریاستی حل کے نظریے کو 'ہماری نظروں کے سامنے' مٹایا جا رہا ہے
اقوام متحدہ کے سربراہ نے ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاسی حمایت کو عملی کارروائی میں تبدیل کریں کیونکہ مغربی کنارے اور غزہ میں غیر قانونی آباد کاری کی توسیع اور منصوبے مستقبل کے فلسطینی ریاست کے قیام کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
گوتریش: دو ریاستی حل کے نظریے کو 'ہماری نظروں کے سامنے' مٹایا جا رہا ہے
گوٹیرس کا کہنا ہے کہ ایک آزاد، جمہوری، متصل اور خود مختار فلسطینی ریاست کے لیے درکار شرائط کو منظم طریقے سے ختم کیا جا رہا ہے۔ (اے اے)

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے منگل کو خبردار کیا کہ دو ریاستی حل کے لیے بین الاقوامی حمایت کو سفارتی بیانات سے آگے بڑھنا ہوگا اور کہا کہ مقبوضہ  فلسطینی علاقوں میں ہونے والی پیش رفت رفتہ رفتہ ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کے امکانات کومعدوم کر رہی ہے۔

گوتریش  نے نیویارک میں 81ویں جنرل اسمبلی کے حوالے سے ہونے والی دو ریاستی حل اور غزہ کے جامع امن منصوبے پر اعلیٰ سطحی وزارتی اجلاس کے دوران کہا کہ "فلسطینیوں اور وہ تمام لوگ جو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے حق میں  ہیں، انہیں  دو ریاستی  حل کی حمایت محض الفاظ سے آگے بڑھانی چاہیے۔"

گوتریش نے کہا کہ ایک آزاد، جمہوری، مسلسل ربط کی حامل اور خودمختار فلسطینی ریاست کے لیے درکار شرائط منظم طور پر کمزور کی جا رہی ہیں، اور اس کی مثال کے طور پر انہوں نے قابض مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیاں بنانے، وہاں کی دیگر پالیسیاں اور غیر قانونی آبادکاروں کے حملوں کا حوالہ دیا۔

گوتریش: فلسطینی زمینی تسلسل کو خطرہ

اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے خاص طور پر مقبوضہ مغربی کنارے  کے ایک اسٹریٹجک طور پر اہم علاقے  میں E1غیر قانونی بستیوں  کے منصوبے میں مجوزہ تعمیرات پر خدشات کا اظہار کیا ۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ان منصوبوں کو آگے بڑھانا "ایک مسلسل اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے امکان کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہوگا۔"

گوترِش نے کہا کہ غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کو وسعت دینا  بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور زور دیا کہ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ دو ریاستیں لازمی طور پر 1967  میں طے شدہ  معاہدے   کی بنیاد پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر رہیں، اور القدس  دونوں کا دارالحکومت ہو۔

انہوں نے کہا، "سادہ لفظوں میں کوئی متبادل موجود نہیں اور وقت ختم ہوتا جا رہا ہے" انہوں نے دو ریاستی فریم ورک کو خطے کے وسیع تر استحکام سے جوڑا۔

کوستا: غزہ کے امن منصوبے پر عمل درآمد لازمی ہے

یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا نے کہا کہ دو ریاستی حل کے بارے میں بین الاقوامی اتفاق رائے  تا حال مطلوبہ حد تک عملی  اقدامات میں تبدیل نہیں ہوا۔

کوستا نے یاد دہانی کرائی  کہ  گزشتہ سال 142 ممالک نے نیویارک اعلامیہ برائے دو ریاستی حل کی تائید کی تھی، اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی  قرارداد 2803 نے غزہ کے امن منصوبے کے لیے ایک عملی فریم ورک فراہم کیا تھا۔   گزشتہ سال کے دوران صورتحال "مشکل سے بہتر ہوئی" ہے، مگر ناکافی ہے۔

انہوں نے غزہ کے لیے روڈ میپ پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ دو ریاستی حل روزانہ کے حساب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف حصوں، بشمول مشرقی القدس  میں خطرے میں پڑ رہا ہے۔

کوستا نے بتایا کہ "امن کے راستے کو برقرار رکھنا" ایک فوری اجتماعی کارروائی کا تقاضا پیش کرتا ہے تاکہ اسرائیل کے ساتھ محفوظ رہتے ہوئے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جا سکے۔

یہ اجلاس 81ویں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران ہوا، جہاں دو ریاستی حل اور غزہ کے مستقبل بین الاقوامی ایجنڈے پر مزید اہم موضوعات پر بات ہو رہی ہے۔

دریافت کیجیے
امریکہ: چین کے ساتھ مذاکرات "بہت کامیاب" رہے ہیں
امریکہ نے یوکرین کے لیے  $2.68 بلین کے دفاعی پیکیج کی منظوری دے دی
چلی: سابق صدر نے اقوام متحدہ کے سربراہ کی دوڑ سےنام واپس لے لیا
ایران نےمذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے کا شرط نامہ پیش کردیا
امریکہ کا منشیات کی ترسیل کرنے والے جہاز پر حملہ، 4 افراد ہلاک
اسرائیل کا غزہ پر حملہ، چار فلسطینی ہلاک
ڈیموکریٹ سینیٹر نے اسرائیل کو 2.8 بلین ڈالر کے اسلحے  کی فروخت روک دی
ترک صدر ایردوان نیویارک روانہ،جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے
ایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی   اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
صدر ایردوان کا یوم غازی کے حوالے سے پیغام
یورپ میں تعلیمی بحران: PISA کے نتائج تاریخ کی کم ترین سطح پر
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا امریکہ کی طرف سے صدرِ فلسطین کو ویزا نہ جاری کرنے پر اظہارِ افسوس
پاکستان میں دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"