جمہوریہ کانگو میں تصدیق شدہ ایبولا کیسوں کی تعداد 5,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔
کانگو حکومت کے منگل کی رات جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ایبولا وائرس کے مریضوں کی تعداد 5 ہزار سے بڑھ چُکی ہے اور صحت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس مہلک بیماری پر قابو پانے کے لیے جاری کوششیں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔
ادارہ صحت عامہ کے مطابق ملک میں ایبولا کی 17ویں وبا ،جولائی کے اختتام تک مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے، تاریخ کی سب سے بڑی وبا بن گئی اورہفتے کے اختتام تک وباء کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد 2,378 تک پہنچ گئی ہے۔
صورتحال سے متعلق اپنی تازہ ترین رپورٹ میں ادارے نے 5,021 کیس ریکارڈ کیے ہیں۔ اس تعداد کے ساتھ یہ وبا 2014 سے 2016 کے دوران مغربی افریقہ میں پھیلنے والی ایبولا وبا کے بعد، مریضوں اور اموات دونوں لحاظ سے، دنیا کی دوسری بدترین وبا بن گئی ہے۔
یہ وبا ایبولا وائرس کی بنڈی بوگیو (Bundibugyo) قسم کی وجہ سے پھیلی ہے۔ ا س وائرس کے خلاف فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج دستیاب نہیں ہے۔
15 مئی کو وبا کے اعلان کے بعد سے اس کے پھیلاو میں تیزی آئی ہے۔ کمزور طبی بنیادی ڈھانچے، مقامی آبادی کی مزاحمت، عدم استحکام اور امدادی ٹیموں کے خلاف احتجاج کے باعث مریضوں کی نشاندہی اور وبا پر قابو پانے کی کوششوں میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔


















