ایران نےکہا ہے کہ ناکہ بندی کے باوجودآبنائے ہُرمز "ایران کی ملکیت تھی، ہے اور رہے گی۔"
ایران نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے، آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین قرار دینےکے ارادے پرمبنی، بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ یہ اہم بحری راستہ ایران کی ملکیت تھا، ہے اور رہے گا۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ"آبنائے ہرمز ایران کی تھی، ایران کی ہے اور ایران کی ہی رہے گی۔ یہ آبنائے صرف ایران کی ہدایت پر کھولی اور بند کی جاتی ہے۔"
واضح رہے کہ ٹرمپ نے جمعہ کے روز نیویارک میں منعقدہ ایک ریلی سے خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کے ایران کو شکست دینے کے بعد "بہت جلد آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین قرار دے دیا جائے گا۔" تاہم بعد میں وائٹ ہاؤس کے ایک نامعلوم عہدیدار نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ٹرمپ نے یہ بات مذاق کے طور پر کہی تھی۔
گزشتہ ہفتے ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار محمد باقر ذوالقدر نے آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے کے لیے کچھ شرائط پیش کی تھیں۔ ان میں شرائط میں "ایران اور لبنان، فلسطین، یمن اور عراق میں اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ اور حملوں کا خاتمہ، پابندیوں کا خاتمہ اور جنگی ہرجانے کی ادائیگی" جیسی شقیں شامل تھیں۔
توانائی کی فراہمی میں رکاوٹیں برقرار
سفارتی کوششوں میں تعطل کے دوران آبنائے ہرمز میں حملوں کا جاری رہنا علاقائی بحری نقل و حمل کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری قومی تیل کمپنی ADNOC نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے ایک بحری جہاز پر گزشتہ رات حملہ کیا گیا۔ بعد ازاں ابوظہبی حکومت نے تہران کو اس کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا ہےکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب "بحری قزاقی کی کارروائیوں" میں ملوث ہیں۔
یو اے ای نے جمعہ کے روز بھی ایران پر ADNOC کے دو مختلف بحری جہازوں پر حملے کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ ایسے بڑھتے ہوئے واقعات کے نتیجے میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان اپریل میں طے پانے والی جنگ بندی ختم ہو گئی تھی۔
جون میں تیار کیے گئے ایک مسودہ فریم ورک میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق انتظامات پر بین الاقوامی قانون کے مطابق مذاکرات کریں گے۔
جنگ سے قبل عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی برآمدات کا تقریباً پانچواں حصہ اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے زور دیا کہ واشنگٹن کی سب سے اہم ترجیح ملک کی داخلی منڈی میں توانائی کی قیمتوں کو کم رکھنا ہے۔
















