روسی سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری سرگئی شویئگو نے دعویٰ کیا ہے کہ 2022 کے استنبول معاہدے کو نافذ ہونے سے مغربی مداخلت نے روکا، حالانکہ روس اور ترکیہ نے اسے حتمی شکل دینے کی کوشش کی تھی۔
بدھ کو ماسکو میں ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان سے ملاقات کے دوران شوئیگو نے کہا کہ ماسکو اور انقرہ نے معاہدے کی تیاری اور اس کے نفاذ کے لیے درکار ساز گار حالات پیدا کرنے میں قریبی تعاون کیا۔
انہوں نے بتایا کہ "اس وقت استنبول معاہدہ مشترکہ کوششوں سے تیار کیا گیا تھا۔ اگر مغربی مداخلت نہ ہوتی تو ہمارے پاس یہ کام مکمل کرنے کے تمام مواقع موجود تھے۔"
شویئگو نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش پر بحیرہ اسود اناج راہداری منصوبے سے متعلق وعدے پورے نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
"روس اور ترکیہ نے اپنی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر پورا کیا ہے۔ واحد فریق جس نے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے وہ معاہدے کا تیسرا فریق تھا"، انہوں نے اس حوالے سے اقوام متحدہ اور گوٹیرش کی طرف اشارہ کیا۔
روسی اہلکار نے ماسکو اور انقرہ کے درمیان متعدد معاملات پر مفید تعاون کے ماضی کی طرف توجہ دلائی۔
انہوں نے شام میں مشترکہ کوششوں کی طرف اشارہ کیا، جن میں کشیدگی کم کرنے والے زونز کا قیام اور انسدادِ دہشتگردی آپریشنز شامل ہیں، اور کہا کہ دونوں ممالک مشکل حالات کے باوجود مستقل بنیادوں پر باہمی طور پر قابل قبول حل تلاش کرتے رہے۔
شوئیگو نے یوکرین سے متعلق امور میں تعاون کی مثالیں بھی دیں، جن میں یوکرینی بندرگاہوں سے ترک جہازوں کی واپسی شامل ہے۔
انہوں نے دونوں ممالک کو درپیش موجودہ چیلنجز پر بات چیت تجویز کی، اور کہا کہ اگرچہ بعض دیرینہ مسائل برقرار ہیں، نئے تعاون کے مواقع بھی سامنے آئے ہیں۔














