کیوڈو نیوز نے ہفتہ کو رپورٹ کیا ہے کہ جاپانی وزراتِ دفاع نے مالی سال 2027 کے لیے ریکارڈ 56 بلین ڈالر کے دفاعی اخراجات کی درخواست کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، کیونکہ ٹوکیو علاقائی سکیورٹی خدشات کے درمیان اپنی عسکری تیاریوں میں وسعت لا رہا ہے۔
یہ بجٹ کی درخواست اگست کے آخر تک فنانس وزارت کو جمع کرائی جائے گی اور سال کے آخر میں ہونے والی بات چیت کے دوران یہ رقم مزید بڑھ سکتی ہے۔
ایک سینئر سرکاری اہلکار نے کہا کہ مجموعی دفاعی اخراجات بالآخر تقریباً 63 بلین ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔
مجوزہ بجٹ جاپان کی سیلف ڈیفنس فورسز کو اُن چیزوں کے لیے تیار کرنے پر توجہ دے گا جنہیں حکام 'نئی نوعیت کا جنگی طرز کہتے ہیں، جن میں ڈراونز اور مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا استعمال شامل ہے۔
جاپان ، انٹرسیپٹر ڈراونز، مصنوعی ذہانت سے مدد یافتہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، خفیہ ڈیٹا کے لیے کلاؤڈ انفراسٹرکچر، اور ہائی پاور لیزر اور مائیکرو ویو ہتھیاروں میں سرمایہ کاری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
یہ منصوبہ بند اخراجات جاپان کے پانچ سالہ دفاعی مضبوطی پروگرام کا حصہ ہیں، جس کے تحت مالی سال 2023-2027 کے لیے 270 بلین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
ٹوکیو نے 2022 میں نئی قومی سلامتی حکمتِ عملی اپنانے کے بعد سے دفاعی اخراجات میں مسلسل اضافہ کیا ہے، اور چین، شمالی کوریا اور روس سے ہونے والے سکیورٹی خطرات کو اس کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
تجزیہ کار وں کا خیال ہے کہ جاپان کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیتیں مشرقی ایشیا میں اسلحہ دوڑ میں اضافہ کا باعث بن سکتی ہیں، جبکہ چین نے ٹوکیو کی عسکری ترقی پر تنقید کی ہے۔
















