کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا کی بڑی جھیلوں میں شمار ہونے والی اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے "امریکہ جھیل" رکھنے کے منصوبے کا اعلان کئے جانے سے چند روز بعد، اونٹاریو کے شہر وِنوَنا میں اونٹاریو جھیل کا نیا سائن بورڈ نصب کرکے اس کی رونمائی کی۔
فورڈ نے ہفتے کے روز ایکس سے جاری کردہ ویڈیو میں کہا ہے کہ "میں یہاں ہمارے صوبے اور ہمارے ملک کی آنکھ کے تارے ' اونٹاریو جھیل' کے کنارے کھڑا ہوں۔ آپ نے سنا ہوگا کہ صدر ٹرمپ اس جھیل کا نام تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ انہیں یہ بات پسند نہیں کہ اونٹاریو اور کینیڈا اپنے حقوق کا دفاع کر رہے ہیں۔ لیکن ذرا سنجیدگی سے سوچیں۔"
انہوں نے کہا ہے کہ "صدر ٹرمپ سے بہت پہلے بھی اس جھیل کا نام اونٹاریو جھیل تھا اور صدر ٹرمپ کے بعد بھی اسے اونٹاریو جھیل ہی کہا جاتا رہے گا۔ لیکن اگر صدر ٹرمپ یا کوئی اور اسے بھول جائے تو ہم نے یہ سائن بورڈ لگا دیا ہے: اب اور ہمیشہ کے لیے، اونٹاریو جھیل۔"
واضح رہے کہ ٹرمپ کےدستخط کردہ ایک صدارتی حکم نامے میں امریکی اداروں کو سرکاری نقشوں اور ڈیٹا بیسوں میں "امریکہ جھیل" کا نام استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی اور کہا گیا ہے کہ یہ تبدیلی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا تھا کہ "ہم اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے فوری طور پر 'امریکہ جھیل' کر رہے ہیں۔"
دوسری جانب کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے جھیل کی قدیم تاریخ اور اس کے نام کی وینڈاٹ زبان میں جڑوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نام کی تبدیلی کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ تنازعہ ناکام تجارتی مذاکرات اور امریکہ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر عائد کیے گئے نئے محصولات کے بعد شروع ہوا ہے۔ کینیڈا نے بھی ان محصولات کے جواب میں جوابی محصولات عائد کئے ہیں۔




















