امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو واپس حاصل کرنا ایک طویل اور مشکل عمل ہوگا۔
انہوں نے جون 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے گزشتہ روز کہا کہ آپریشن "مڈنائٹ ہیمر" ایران میں نیوکلیئر ڈسٹ سائٹس کی مکمل تباہی تھا ۔
امریکی صدر طویل عرصے سے یہ مؤقف رکھتے آئے ہیں کہ ان حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا جبکہ حال ہی میں انہوں نے یورینیم کے ذخیرے کو "گرد" قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اسے کھود کر نکالنا دِقّت طلب کام ہوگا۔
واضح رہے کہ یہ بیانات پاکستان میں ممکنہ اعلیٰ سطحی مذاکرات سے پہلے سامنے آئے ہیں۔
ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا تھاکہ امریکی نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جائیں گے، تاہم تہران نے ابھی تک باضابطہ طور پر اپنی شرکت کی تصدیق نہیں کی اور آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان نے 11-12 اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان پہلی براہِ راست اعلیٰ سطحی بات چیت کی میزبانی کی، جو 1979 میں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد پہلا ایسا رابطہ تھا تاہم یہ مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے۔














