ایران کے اعلی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹ دی مگر خبردار کیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان بڑا فاصلہ باقی ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے، ایرانی پارلیمانی اسپیکر نے کہا کہ اگرچہ تہران کے پاس 'پائیدار امن حاصل کرنے کی نیت' ہے، تاہم جوہری معاملے اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے بڑے اختلافات برقرار ہیں۔
قالیباف نے کہا کہ امریکی اور ایرانی مذاکراتی ٹیمیں اب ایک دوسرے کو زیادہ حقیقی انداز میں سمجھتی ہیں تاہم انہوں نے زور دیا کہ ایران کو یہ ضمانتیں حاصل کرنی ہوں گی کہ 'امریکہ یا صہیونی ادارہ' دوبارہ ملک کے خلاف جنگ نہ کرے۔
انہوں نے 'قدم بہ قدم' طریقہ کار کی حمایت کی، جس میں دونوں اطراف اپنے وعدے باہمی طور پر نافذ کریں۔
' انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکی واقعی نیت رکھتے ہیں تو انہیں اپنے یک طرفہ حکم تھوپنے کے طریقے کو ترک کرنا ہوگا۔
حالیہ تنازع کے حوالے سے، قالیباف کا دعویٰ تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فائر بندی کی درخواست کی کیونکہ ایران 'میدانِ جنگ میں فاتح' تھا۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ بارہ روزہ جنگ اور حالیہ جھڑپوں کے درمیان ایران نے ہوائی دفاع میں نمایاں پیش رفت حاصل کی۔
' انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اپنا مقصد یعنی رجیم چینج یا ہماری حملہ آور اور میزائل صلاحیتوں کو تباہ نہیں کرسکا " ایران وینیزویلا نہیں ہے"۔
قالیباف نے مزید کہا کہ دشمن ایران کی سرحدوں کے پار 'علیحدگی پسند عناصر' داخل کرانے کی کوششوں میں ناکام رہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تہران کی عارضی فائر بندی قبول کرنے کی نیت اس بات کو یقینی بنانا تھی کہ دشمن ایران کے مطالبات پورے کرے۔
'ہم دشمن پر اعتماد نہیں کرتے، اور اگر وہ کوئی غلطی کریں گے تو ہمارے مسلح افواج جواب دیں گی، کیونکہ وہ مکمل تیار ہیں،' انہوں نے خبردار کیا اور مزید کہا کہ 'دشمن' نے دھمکیوں کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیجنا شروع کر دیے۔







