مشرق وسطیٰ میں جنگ کے دوران ہزاروں امریکی اور فلپائنی فوجیوں نے پیر کے روز سالانہ فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔ مشقوں میں پہلی بار جاپان کا ایک اہم فوجی دستہ بھی شامل ہوا ہے۔
مشقیں، ملک کے شمالی حصے میں آبنائے تائیوان کے سامنے والے علاقے اور متنازع جنوبی چین کی سمندری پٹی پر واقع صوبے میں، اصلی گولہ بارودکے ساتھ کی جائیں گی۔
1400 فوجیوں کے ساتھ مشقوں میں شریک جاپانی فوج، فلپائن کے شمالی صوبے 'پاوئے' کے کھُلے سمندر میں ہدف بنائے گئے جہاز کو ڈبونے کے لیے ٹائپ 88 کروز میزائل کا استعمال کرے گی۔
بالیکاتن ‘Balikatan’ نامی ان 19 روزہ مشقوں میں 17,000 سے زائد فوجی، فضائیہ کے اہلکار اور ملاح دستے حصہ لے رہے ہیں۔ ان دستوں میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، فرانس اور کینیڈا کے دستے بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ بالیکاتن کا مطلب ہے 'کندھے سے کندھا ملا کر' ۔
امریکی مشقوں کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل رابرٹ بن نے کہا ہےکہ "یہ مشقیں 'ایک آزاد اور کھلےبحیرہ ہند۔بحرالکاہل کے لیے ہمارے عزم' کا اظہار ہیں۔ علاوہ ازیں امریکی فوجی اہلکاروں کی تعداد مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ سے متاثر نہیں ہوگی"۔
علاقائی کشیدگی کے مراکز
بالیکاتن مشقیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ایران اورامریکی اسرائیلی جنگ روکنے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہونے میں محض چند دن باقی ہیں۔
اس تنازعے نے توانائی کی قیمتوں میں عالمی بحران پیدا کر دیا اور درآمدات پر انحصار کرنے والے ملک فلپائن کو شدید متاثر کیا ہے۔
مشقوں کے انعقاد کا وقت بیجنگ کے تائیوان کے گرد فوجی دباؤ بڑھانے کے دَور کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس نے گزشتہ نومبر جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ "تائیوان کی وجہ سے چھڑنے والی جنگ نہ چاہتے ہوئے بھی فلپائن کو اس تنازعے کا حصہ بنا دے گی۔"
حالیہ جنگی مشقوں کے دوران بشمول اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کے مربوط فضائی و میزائل دفاعی نظاموں کا تجربہ کیا جائے گا۔
جاپان نے ایک ٹینک لینڈنگ شپ، ایک ڈسٹرائر اور ایک ہیلی کاپٹر ڈسٹرائر تعینات کیا ہے، جبکہ امریکہ ایک گشتی جہاز اور ایک ڈاک لینڈنگ شپ کا استعمال کرے گا جو فلپائنی اور کینیڈین بحری بیڑوں کے ساتھ شامل ہوں گے۔








