سیاست
3 منٹ پڑھنے
واشنگٹن-تہران بات چیت میں "امید" اور "احتیاط" ایک ساتھ جاری
جوہری مواد کے تلف کیے جانے اور ایران کے اندر سیاسی نقطہ نظر کے اختلافات "حتمی دستخط" سے قبل صورتحال کو نازک رکھے ہوئے ہیں۔
واشنگٹن-تہران بات چیت میں "امید" اور "احتیاط" ایک ساتھ جاری
امریکہ اور ایران کے پرچم

یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل سے جاری "تناؤ اور مذاکرات" کے چکر میں ایک تاریخی موڑ آ گیا ہے۔ پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کے بیان "معاہدہ متن تیار ہے" کے بیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے "ہم نے ایک شاندار معاہدہ کیا ہے" کے اشاروں سے تیزی پکڑنے والے اس عمل کے دوران، میز پر موجود شرائط اور متفقہ "اسلام آباد معاہدہ" کی تفصیلات واضح ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

تہران کے نمائندے ہارون آئکاچ اور واشنگٹن کے رپورٹر تونا شانلی کی طرف سے ملنے والی معلومات کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے "متفقہ ضابطے" کے مرحلے تک پہنچ گئے ہیں۔ تاہم جوہری مواد کے تلف کیے جانے اور ایران کے اندر سیاسی نقطہ نظر کے اختلافات "حتمی دستخط" سے قبل صورتحال کو نازک رکھے ہوئے ہیں۔

تہران کی شرط: تلف نہیں، شررح افزودگی میں تحفیف

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے اس مسودے کے حوالے سے جسے وہ "اسلام آباد معاہدہ" کہتے ہیں، تہران کی جانب سے آنے والی معلومات ایران کی حکمتِ عملی اور سرخ لکیروں کو واضح کرتی ہیں۔

ہارون آئکاچ کے بیان کے مطابق؛ تہران انتظامیہ نے سب سے نازک مسئلے یعنی جوہری معاملے کو "دوسرے مرحلے" میں رکھنے کی پیشکش قبول کی ہے۔ ایران نے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے پر واضح طور پر اعتراض کیا ہے اور اس کی جگہ اس ذخیرے کی "شرح افزودگی" میں تحفیف لانے کی تجویز دی ہے۔ آبنائے ہرمز کو تجارتی نقل و حمل کے لیے کھولنے کا عندیہ دیا گیا ہے؛ تاہم سیکیورٹی کا سابقہ درجہ بحال نہیں ہوگا اور اسے ایران اور عمان کے کنٹرول میں رکھے جانے کی شرط رکھی گئی ہے۔ اسرائیل کے لبنان میں حملوں سمیت علاقے کے تمام محاذوں پر جنگ بندی یقینی بنانا تہران کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس عمل کے دوران ایران کے بین الاقوامی نظام میں موجود مالی اثاثوں کی واپسی کا بھی ہدف رکھا گیا ہے۔

واشنگٹن کا پانچ نکاتی منصوبہ اور "60 روز" کا شیڈول

تونا شانلی کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن ذرائع اور ایک اعلیٰ امریکی اہلکار کی بنیاد پر سامنے آنے والا "پانچ نکاتی منصوبہ" مندرجہ ذیل نکات پر مشتمل ہے:

- جوہری مواد کی منتقلی: امریکہ جوہری ذخیرے کے تلف یا ایران سے باہر منتقل کیے جانے پر مُصر ہے۔

- جوہری پروگرام کا خاتمہ: پروگرام کے مکمل طور پر ختم کیے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

- مطابقت شرطی واپسی: منجمد فنڈز کو آزاد کرنے کے لیے 'معاہدے کی مکمل پابندی' شرط رکھی گئی ہے۔

- آبنائے ہرمز: محاصرہ ختم کیا جائے اور آبنا کو مکمل طور پر کھلا رکھا جائے۔

- دہشت گردی کی مالی معاونت: علاقائی گروپوں کو فراہم کردہ مالی امداد کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اگر یہ معاہدہ طے پا گیا تو ایران کی بین الاقوامی نظام میں مکمل شمولیت کا راستہ کھولنے کا منصوبہ ہے۔ اس تناظر میں ایک وسیع اقتصادی پیکیج زیرِ غور ہے جو حتیٰ کہ امریکی کمپنیوں کو بھی ایران کے تیل تک رسائی فراہم کرے گا۔ فریقین کے اسی ہفتے کے آخر میں جنیوا میں ملاقات کے امکان کے پیشِ نظر، سفارتی ذرائع اس عمل کو 'امید افزا مگر محتاط' انداز میں چلانے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔