دنیا
3 منٹ پڑھنے
امریکہ کا انکشاف، ایلون مسک کی گروک اے آئی کا استعمال ایران پر فوجی حملوں میں کیا گیا
15 جون کی بریفنگ میں اس ارب پتی کی کمپنی xAI کے ایک بڑے ڈیٹا سینٹر میں استعمال ہونے والے گیس ٹربائنز کا دفاع کیا گیا، جن کے خلاف ماحولیاتی مقدمہ دائر ہے۔
امریکہ کا انکشاف، ایلون مسک کی گروک اے آئی کا استعمال ایران پر فوجی حملوں میں کیا گیا
[FILE] ایک گواہی کے مطابق، گروک پہلے ہی ایک ایسے ٹارگٹنگ پروگرام میں استعمال ہو رہا ہے جو ابتدائی طور پر اینتھروپک کے کلاڈ ماڈل سے چل رہا تھا۔ / Reuters

امریکی انتظامیہ نے ایک قانونی بریفنگ میں انکشاف کیاہےکہ  ایلون مسک کا مصنوعی ذہانت کا آلہ Grok ایران کے خلاف حملوں میں استعمال ہوا۔

15 جون کی بریفنگ  میں اس ارب پتی کی کمپنی xAI کے ایک بڑے ڈیٹا سینٹر میں استعمال ہونے والے گیس ٹربائنز کا دفاع کیا گیا، جن کے خلاف ماحولیاتی مقدمہ دائر ہے۔

اے ایف پی  کا کہنا ہے کہ، امریکی محکمہ انصاف کا استدلال تھا کہ یہ مقدمہ 'مصنوعی ذہانت جوکہ شعبہ جنگ  کی عسکری کارروائیوں کی جدت کے لیے بجلی کی فراہمی بند کرنے کی کوشش کر کے امریکی قومی، معاشی اور توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے، سے تعلق رکھتا ہے۔

اس دلیل کے سلسلے میں، وفاقی پراسیکیوٹرز نے پینٹاگون کے AI چیف کیمرون اسٹینلے کی حلفیہ گواہی پیش کی، جن میں انہوں نے کہا کہ Grok پہلے ہی Project Maven میں استعمال ہو رہا ہے، جو امریکی فوج کا AI- سے انضمام شدہ  ہدفی پروگرام ہے۔

اسٹینلے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ  اس پروجیکٹ کے ماوین   سمارٹ سسٹم نے 'Operation Epic Fury' کے دوران 96 گھنٹوں میں 2,000 سے زائد گولہ بارود کو 2,000 مختلف اہداف پر داغنے کے  قابل بنایا۔

اسٹینلے نے مسک کی ٹیکنالوجی اور 'Grok Gov Model کے ذریعے ممکن بنائی گئی نمایاں بڑھتی ہوئی آپریشنل کارکردگی' کی تعریف کی۔

NAACP، جو سیاہ فام امریکیوں کے حقوق کے دفاع کی ایک سول رائٹس تنظیم ہے، xAI کے خلاف مقدمہ کر رہی ہے اور الزام لگا رہی ہے کہ یہ درجنوں ٹربائنز بغیر پرمٹ کے چلائے جا رہے ہیں جو Clean Air Act کی خلاف ورزی ہے۔

حقوق کے گروپ کا کہنا ہے کہ یہ زیادہ تر سیاہ فام علاقوں میں آلودگی پھیلاتے ہیں، جبکہ xAI کا موقف ہے کہ ٹربائنز عارضی اور موبائل ہیں، اس لیے وہ ضوابط کے تابع نہیں۔

فروری کے آخر میں، حکومت نے Anthropic کے ساتھ اپنے معاہدے ختم کر دیے جب اس نے اپنی ٹولز کو مکمل طور پر خودکار حملوں یا امریکیوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت دینے سے انکار کیا۔

پینٹاگون نے پھر AI کے اپنے استعمال کو جاری رکھنے کے لیے Anthropic کے مقابلے میں دیگر کمپنیوں کی طرف رجوع کیا، جیسے Google، OpenAI اور xAI۔

گوگل میں 600 سے زائد ملازمین نے کمپنی سے مطالبہ کیا کہ وہ خفیہ آپریشنز کے لیے فوج کو AI فراہم نہ کرے۔ دیگر افراد نے AI کے خطرات کے بارے میں وسیع تحفظات اٹھائے ہیں۔

امریکی فوج کا AI کی طرف منتقلی وقت لے رہی ہے، اور مارچ میں حکومت کوتسلیم کرنا پڑا کہ Claude اب بھی ایران میں جنگ کے لیے استعمال ہو رہا  ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلیف، مسک نے فروری میں xAI کو اپنی خلائی تحقیقاتی کمپنی SpaceX میں ضم کر دیا تھا۔

 

دریافت کیجیے