فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف کی جانے والی نسل کشی کے شواہد کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔
حماس نے بتایا کہ ہزاروں لاپتہ افراد کی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں اور اسرائیل اس ملبے کو کچل رہا ہے، ہٹا رہا ہے اور منتقل کر رہا ہے۔
تنظیم نے اپنے ایک سرکاری بیان میں "قابض حکومت اور اس کی فوج کی جانب سے ملبے کو ہٹانے، اسے کچلنے اور دوسری جگہوں پر منتقل کر کے غزہ میں ہمارے عوام کے خلاف کیے جانے والے سفاکانہ جرائم کے شواہد کو مٹانے کی کوششوں" کی شدید مذمت کی۔
حماس نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات ملبے کے نیچے "ہزاروں لاپتہ افراد کی لاشوں اور قابضین کی جانب سے دو سال سے زائد عرصے سے جاری نسل کشی کے جرائم کے مادی شواہد" کی موجودگی کے باوجود کیے جا رہے ہیں۔
حماس نے انسانی باقیات اور ممکنہ قانونی شواہد والے مقامات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو "بین الاقوامی قوانین اور عالمی عدالتِ انصاف کے شواہد کو محفوظ رکھنے کے حکم کی صریح خلاف ورزی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ "شہداء کی حرمت اور اپنے اقارب کی لاشیں تلاش کر کے انہیں دفنانے کے لواحقین کے حق پر ایک حملہ ہے"۔
حماس نے فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اقوامِ متحدہ کی خصوصی مبصر فرانسسکا البانیز کے اس انتباہ کا خیرمقدم کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے ملبے کو ہٹانے کے کام سے "سفاکانہ جرائم" کے نشانات مٹنے کا خطرہ ہے۔
اقوامِ متحدہ اور عالمی فوجداری عدالت سے ان مقامات کے تحفظ کی اپیل کرتے ہوئے حماس نے مطالبہ کیا کہ لاشوں کو نکالنے کی نگرانی اور فرانزک مواد کو دستاویزی شکل دینے کے لیے بین الاقوامی فرانزک محققین کو غزہ بھیجا جائے۔
واضح رہے کہ دو سال سے جاری اسرائیلی نسل کشی کے نتیجے میں اب تک 73,000 سے زائد فلسطینی شہید، 174,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں اور 9,000 سے زائد افراد تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے لاپتہ ہیں۔
















