ترکیہ وزارتِ خارجہ نے، بحیرۂ اسود میں ترک آپریٹروں کے زیرِ انتظام دو بحری جہازوں پر یوکرینی حملوں کے بعد، انقرہ میں یوکرین کے سفیر کو وزارتِ خارجہ میں طلب کر لیا۔
وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق، ترک آپریٹروں کے زیرِ انتظام"لیڈر بوردو ماوی" نامی بحری جہاز کو 26 اگست کو بحیرۂ اسود میں روس کی توآپسے بندرگاہ کے قریب نشانہ بنایا گیا اور
اگلے روز جہاز کو کھینچ کر لے جانے کے لیے علاقے میں بھیجے گئے "لیڈر قوجا تیپے بحری جہاز" کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
واقعات کے بعد انقرہ میں یوکرین کے سفیر کو ہفتے کے روز وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا اور ان حملوں پر ترکیہ کے ردِعمل سے آگاہ کیا گیا ہے۔
ملاقات کے دوران ترک حکام نے، بحیرۂ اسود میں انسانی جانوں اور املاک کی سلامتی، بحری آمدورفت کے تحفظ اور ماحول کی حفاظت کو یقینی بنائے جانے پر زور دیا اور اس حوالے سے ضروری تنبیہات بھی کیں۔
واضح رہے کہ ترکیہ نے 4 اگست کو بھی روس-یوکرین جنگ بحیرۂ اسود تک تیزی سے پھیلنے کے بارے میں خبردار کیا تھا ۔ یہ تنبیہ ترک کمپنیوں کی زیرِ ملکیت دو شہری بحری جہازوں کو ڈرونوں کے ساتھ نشانہ بنائے جانے کے بعد جاری کی گئی تھی۔ واقعے میں جہازوں کے عملے کے بعض ارکان، جن میں ترک شہری بھی شامل تھے، زخمی ہوگئے تھے۔
ترکیہ بارہا جنگی فریقین سے مطالبہ کر چُکا ہے کہ وہ ،تزویراتی اہمیت کے حامل بحیرۂ اسود میں تجارتی بحری آمدورفت کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے، فوری طور پر ضروری اقدامات کریں۔




















