ہندو کش کے علاقے میں 5.8 کی شدت کا زلزلہ آنے سے وسطی افغانستان میں کم از کم چھ افراد ایک گھر کے منہدم ہونے سے ہلاک ہو گئے ۔ پڑوسی پاکستان کے مختلف حصوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
افغانستان کے وزارتِ اطلاعات کے ایک بیان کے مطابق، یہ چھ افراد جمعہ کے روز کابل کے وسطی ضلع بگرامئی میں ایک گھر مسمار ہونے سے ہلاک ہوئے۔
ایک شخص لاپتہ
جرمن ریسرچ سینٹر برائے جیوسائنسز کے مطابق، زلزلہ 181 کلومیٹر گہرائی میں آیا۔
ابتدائی اطلاعات میں زلزلے کی شدت 5.9 بتائی گئی جسے بعد میں کم کر کے 5.8 کر دیا گیا۔
مقامی شہری عبیداللہ بحیر نے X پر لکھا کہ افغان دارالحکومت کابل میں بھی جھٹکے محسوس کیے گئے۔
زلزلے کے جھٹکے پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد، شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا، اور شمالی گلگت بلتستان میں بھی محسوس کیے گئے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھی جھٹکے محسوس کیے گئے۔
پاکستان محکمہ موسمیات نے ابتدائی طور پر زلزلے کی شدت 6.1 بتائی۔
گزشتہ سال اگست میں مشرقی افغانستان میں ایک تباہ کن زلزلے نے 2,200 سے زائد افراد کو ہلاک اور تقریباً 4,000 کو زخمی کر دیا تھا۔
نومبر میں بھی ایک بڑے 6.3 شدت کے زلزلے میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور تقریباً 1,000 زخمی ہوئے تھے۔












