امریکہ میں درجنوں بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ایران پر امریکی حملے ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں، جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے ایران کے بجلی اور نمک نکالنے کے پلانٹس کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکیوں کا اعادہ کیا۔
جمعرات کو جاری کردہ خط میں امریکہ کے 100 سے زائد بین الاقوامی قانون کے ماہرین، جن میں ہارورڈ، ییل، اسٹینفورڈ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا جیسے اداروں کے ماہرین بھی شامل ہیں، نے کہا کہ امریکی افواج کا موقف اور سینئر امریکی حکام کے بیانات ''بین الاقوامی حقوقِ انسانی قانون اور بین الاقوامی انسانیت کے قانون کی خلاف ورزیوں کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کر رہےہیں، جن میں ممکنہ جنگی جرائم بھی شامل ہیں۔''
خط میں مارچ کے وسط میں ٹرمپ کے ایک تبصرے کا ذکر بھی کیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ شاید ایران پر 'صرف تفریح کے لیے' حملے کرے۔ اس میں مارچ کے ابتدائی دنوں میں پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگسٹھ کے اُن بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ 'جاہلانہ لڑائی کے قواعد' کے ساتھ نہیں لڑتا۔
ماہرین نے خط میں کہا ہے کہ''یہ جنگ، جس کی امریکی ٹیکس دہندگان پر یومیہ لاگت 1-2 بلین ڈالر کے درمیان ہے، خطے کے عام شہریوں کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے، اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں سینکڑوں غیر فوجی افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور یہ ماحولیاتی اور معاشی لحاظ سے بھی سنگین نقصان کا باعث بن رہی ہے۔''
'ہم امریکی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی انسانیت کے قوانین اور انسانی حقوق کے قوانین کا احترام کریں، اور عوامی طور پر بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے لیے امریکی عزم اور احترام واضح کریں'۔
یہ خط 'جسٹ سیکیورٹی' پالیسی جرنل کی ویب سائٹ پر شائع ہوا ہے۔
ماہرین نے کہا کہ وہ 'سخت تشویش میں مبتلا' ہیں کہ ایسے حملے ہوئے ہیں جنہوں نے اسکولوں، طبی تنصیبات اور مکانات کو نشانہ بنایا ہے، اور انہوں نے جنگ کے پہلے دن ایران میں ایک اسکول پرہونے والے حملے کی نشاندہی کی۔
'غیرانسانی' اندازِ گفتگو
بدھ کو ٹرمپ نے ایران کو 'انتہائی سخت' طریقے سے نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ۔ 'ہم اگلے دو سے تین ہفتوں میں انہیں انتہائی سخت نقصان پہنچائیں گے۔ ہم انہیں عہدِ پتھر میں واپس لے آئیں گے، جہاں وہ ہونے چاہییں،'
ایک معتبر امریکی مسلم حمایتی تنظیم نے خبردار کیا کہ جنگ کے دوران ٹرمپ کی تقاریر، بشمول ایران کو 'عہدِ پتھر کوں واپس لے جانے' کی دھمکی، 'انسانیت سوز' رہی ہیں۔
یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے کیے، جن میں ابتک 1,340 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایران نے جوابی کارروائی میں ڈراون اور میزائل حملے کیے جن کا ہدف اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈے تھے۔








