دنیا
2 منٹ پڑھنے
ایران: دشمن ممالک کے جہازوں کو اجازت لینا پڑے گی
ایران پارلیمنٹ، 'دشمن' ممالک کے عسکری و تجارتی جہازوں کے بلا اجازت خلیج میں داخلے کے سدّباب پر مبنی، مسّودہ قانون تیار کر رہی ہے
ایران: دشمن ممالک کے جہازوں کو اجازت لینا پڑے گی
اس بل کے تحت، "دشمن" ممالک سے تعلق رکھنے والے فوجی اور تجارتی بحری جہازوں کو ایران کی منظوری کے بغیر خلیج میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ / Reuters Archive

ایران کی پارلیمنٹ، تہران کی جانب سے 'دشمن' قرار دیئے گئے ممالک کے عسکری و تجارتی جہازوں کے بلا اجازت خلیج میں داخلے کو روکنے پر مبنی، مسّودہ قانون تیار کر رہی ہے ۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا IRNA کے مطابق پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے منگل کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یہ قانون، ایران کی جانب سے تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لئے جانے  کے بعد، ملک میں پیش کیے جانے والے اہم ترین اور جدید ترین قوانین میں سے ایک ہوگا۔

عزیزی نے کہا ہے کہ مجّوزہ قانون کے تحت 'دشمن' ممالک کے فوجی و تجارتی جہازوں کو ایران کی منظوری کے بغیر خلیج میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا  ہےکہ اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز پر ایران کے اختیار اور کنٹرول کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

کمیٹی کے ترجمان حسن غشقاوی نے 9 اگست کو جاری کردہ بیان میں  کہا تھا کہ کمیٹی نے ایک ایسے قانونی مسودے کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز اور خلیج کی سلامتی کو یقینی بنانا اور دونوں علاقوں میں پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے اواخر میں ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ تہران اور واشنگٹن اب تک اس تنازعے کو ختم کرنے کے لیے کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی توانائی کی رسدی زنجیر میں مسلسل خلل کا باعث بن رہی ہے۔

دریافت کیجیے