سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے کہا ہے کہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف ایک وسیع کارروائی کی گئی ہے اور ان کارروائیوں میں بیلسٹک میزائلوں کے ذخائر موجود ہونے والی 5 سرنگیں، 6 لانچنگ پیڈزاور 1 میزائل گودام تباہ کر دیا گیا ہے۔
سعودی قیادت کے عرب اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے X سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یمن کے شہر صنعا میں 2 بیلسٹک میزائل فائرنگ ریمپس کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
المالکی نے کہا کہ ان ریمپس میں سے ایک کا استعمال سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر حملہ کرنے کے لیے کیا جا رہا تھا۔
عرب اتحاد کے ترجمان نے بعد ازاں بیان دیا کہ یہ کارروائی سعودی عرب کے جائز دفاعی حق کے دائرہ کار میں کی گئی اور حوثیوں کے فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
المالکی نے کارروائی کے حوالے سے بتایا کہ حوثیوں کے کنٹرول والے علاقوں میں بیلسٹک میزائل ذخیرہ کیے جانے والی 5 سرنگیں، 4 بیلسٹک میزائل فائرنگ ریمپس اور 1 میزائل گودام تباہ کر دیا گیا۔
المالکی نے کہا کہ آپریشن کا زور حوثیوں کے زیرِقبضہ علاقوں کے درمیان رسد کے راستے منقطع کرنے پر تھا اور ساتھ ہی یمن کی محاذی پٹیوں میں حوثیوں کے ٹھکانے اور فوجی ساز و سامان کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
حوثیوں نے عدن اور لاحج میں حملوں کا اعلان کیا
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سری نے X پر لکھا ہے کہ وہ یمن کے صوبوں عدن اور لاحج میں حکومتی قوتوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
سری نے بتایا کہ ان کے دو حملوں میں بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے اور عدن کے صلاح الدین اور لاحج کے الواحات علاقے میں ہتھیاروں کے گودام نشانہ بنائے گئے۔
یمن اس داخلی جنگ کا منظر ہے جو ستمبر 2014 میں حوثیوں کے دارالحکومت صنعا اور بعض صوبوں پر قبضہ کرنے کے بعد شروع ہوئی۔
سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد مارچ 2015 سے بین الاقوامی برادری کی تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔
یمن میں حکومت نواز فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپیں حالیہ عرصے میں بڑھ گئی ہیں، اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی ان حملوں کا الزام سعودی عرب پر عائد کرتے ہوئے اسے بیلسٹک میزائلوں اور ڈراونز کے ذریعے نشانہ بنا رہے ہیں۔












