امریکی کانگریس کی رکن ڈیلیا رامیریز نے بدھ کے روزجاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی ’’ابھی ختم نہیں ہوئی‘‘ لہٰذا امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو بموں کی فراہمی روکنے سے متعلق بل منظور کیا جانا چاہیے۔
ریاست الینوائے سے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس نے سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ’’اسرائیل امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔‘‘
رامیریز نے کہا ہے کہ ’’اسرائیل کے فضائی حملوں میں غزہ میں بچے اور خاندان مسلسل ہلاک ہو رہے ہیں۔ پانچ لاکھ فلسطینی خوراک اور امداد تک رسائی سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’’چاہے بموں کے ذریعے ہو یا لوگوں کو بھوکا رکھ کر، نسل کشی ختم نہیں ہوئی۔ ہمیں اسے روکنا ہوگا۔ اس کا آغاز میرے پیش کردہ ’بموں کی روک تھام کے قانون' کو منظور کرکے کیا جا سکتا ہے۔‘‘
رامیریز نے گزشتہ سال ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس سارا جیکبز، پرامیلا جے پال اور مارک پوکن کے ساتھ مل کر H.R. 3565 نمبر کا قانون پیش کیا تھا۔
بل میں اسرائیل کو مختلف اقسام کے گولہ بارود اور فوجی سازوسامان کی ترسیل روکنے کی تجویز دی گئی ہے۔
جس گولہ بارود اور عسکری سامان پر پابندی کی تجویز پیش کی گئی ہے ان میں بنکر کُش BLU-109 بم، MK80 سیریز بم، GBU-39 چھوٹے قطر کے بموں کی مختلف اقسام، جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشنز (JDAM)، SPICE گائیڈڈ بم کٹس، 120 ملی میٹر ٹینک گولے، 155 ملی میٹر توپوں کے گولے اور سفید فاسفورس پر مشتمل گولہ بارود شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل، اکتوبر 2023 سے غزہ پر مسّلط کردہ نسل کشی جنگ میں اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل اور ایک لاکھ 75 ہزار سے زیادہ کو زخمی کر چکا ہے۔ علاوہ ازیں اسرائیل نے غزّہ کے شہری بنیادی ڈھانچے کے تقریباً 90 فیصد کو بھی ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔
غزہ وزارتِ صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابقاسرائیل ، اکتوبر 2025 سے نافذ جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں میں اب تک 1534 فلسطینیوں کو قتل اور 5486کو زخمی کر چکا ہے۔























