حکام نے بتایا ہے کہ پیر کی علی الصبح فلپائن کے محکمہ انصاف کے داخلی دروازے کے قریب ایک خود ساختہ بم پھٹا، یہ واقعہ اس سے چند گھنٹے پہلے پیش آیا جب ملک کے سینیٹ کے قریب ایک مشتبہ ناکارہ آلے کا تعین ہوا۔
اس دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اور دوسرے مشتبہ بم کا تعین اسی دن صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر کی سالانہ "اسٹیٹ آف دی نیشن" تقریر سے چند گھنٹے قبل ہوا۔
قومی پولیس کے سربراہ جوزے میلینسیو نارٹاٹیز جونیئر نے پیر کو صحافیوں سے کہا کہ 'اس بات کا بڑا امکان یا احتمال ہے کہ دونوں واقعات مربوط ہوں'۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ پولیس کے پاس 'بم دھمکیوں، حقیقی بم دھماکوں اور دیگر کے خلاف ہنگامی منصوبے موجود تھے، ' تا ہم کچھ چیز ہمارے قابو سے باہر ہو گئیں ۔
صبح سویرے ہونے والا دھماکے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
منیلا پولیس کے ترجمان فلپ انیس نے کہا، 'ہم ابھی تفتیش کر رہے ہیں، اس لیے ہم یہ بتا نہیں سکتے کہ دھماکہ وسیع پیمانے کا یا محدود سطح کا تھا'۔
سیاسی کشیدگی
فلپائنی میڈیا پر شائع تصاویر میں دھماکے سے گاڑی کی ونڈشیلڈ پر دراڑیں پڑنے اور وہاں معمولی سا ملبہ بکھرنے کا مشاہدہ ہوا ہے۔
پولیس نے ایک رپورٹ میں کہا کہ سینیٹ کے قریب پائی گئی ڈیوائس کو عمارت سے ملحقہ سڑک پر صبح تقریباً 8:30 بجے ایک ٹرک ڈرائیور نے دیکھا اور سیکیورٹی عملے کو اطلاع دی۔
متعلقہ تربیت یافتہ ٹیم نے موقع سے سامان نکالا جس میں بلاسٹنگ کیپ، ایک گھڑی اور ٹیسٹ کے لیے ایک جار میں 'بھورا پاؤڈر' شامل تھا۔
علاقائی پولیس ترجمان ہیزل آسیلو نے اس بات کا اندازہ لگانے سے گریز کیا کہ یہ ڈیوائس کتنے بڑے دھماکے کا سبب بن سکتی تھی۔
مارکوس کی پیر کو تقریر ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب سیاسی تناؤ بڑھا ہوا ہے، نائب صدر سارا ڈوٹرٹے مواخذے کے مقدمے سے دو چار ہیں، اور رائے دہندگان جعلی سیلاب کنٹرول منصوبوں سے جڑے بدعنوانی کے اسکینڈل سے بھی متاثر ہوئے ہیں۔





















