اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر گولان نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نابلس کے قریب تل قصبے پر فوج کی حفاظت میں غیر قانونی آباد کاروں کے حملے کے دو دن بعد یہ بیان دیا ہے کہ اسرائیلی فوجی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی "غیر ذمہ دارانہ" پالیسیوں کی قیمت چکا رہے ہیں۔
ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ گولان نے اتوار کے روز ایکس پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ نیتن یاہو کی پالیسیاں، جن میں فوجی سروس سے مستثنیٰ الٹرا آرتھوڈوکس یہودی شامل ہیں جنہیں انہوں نے "یہودی دہشت گردی" قرار دیا، اسرائیلی فوجیوں پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو،بیزالیل سموٹریچ،ایتمار بن غفیر حکومت مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ رہی ہے۔"
گولان نے اپنی بات اس جملے پر ختم کی کہ نیتن یاہو ہم انتخابات میں آپ کی جگہ لینے آ رہے ہیں۔"
ہفتے کے روز گولان نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں خبردار کیا تھا کہ نیتن یاہو حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے کو ایک "بارود کا ڈھیر" بنا دیا ہے جو اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
گولان نے یہ بھی واضح کیا کہ انتہا پسند آباد کار مہینوں سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں، حالات خراب کر رہے ہیں اور اسرائیلی فوج اور ملک کو ایک وسیع تر تصادم کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
جمعے کے روز، فوج کی حمایت یافتہ غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں نے فلسطینی قصبے تل پر حملہ کر کے چار فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ فلسطینی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق، اس جھڑپ کے دوران ہونے والی فائرنگ میں دو اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی افواج نے تشدد کے ان واقعات کے بعد نابلس اور اس کے آس پاس کے قصبوں کا محاصرہ کر لیا، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع کر دیں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑے پیمانے پر کارروائیوں کی تیاری کا اعلان کیا۔
سرکاری فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی افواج اور غیر قانونی آباد کاروں کے ہاتھوں کم از کم 1,182 فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً 24,000 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔



















