دنیا
3 منٹ پڑھنے
امریکی سینیٹر نے 9 امریکیوں کے قتل پر اسرائیل کی جوابدہی کا مطالبہ کر دیا
امریکی سینیٹر کرس وان ہولن  نے سن 2022 سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے نو امریکی شہریوں کے لیے جوابدہی اور انصاف کے اپنے مطالبے کو ایک بار پھر دہرایا ہے۔
امریکی سینیٹر نے 9 امریکیوں کے قتل پر اسرائیل کی جوابدہی کا مطالبہ کر دیا
امریکی سینیٹر / Reuters

سینیٹر کرس وان ہولن کا اسرائیل کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 9 امریکی شہریوں کے لیے انصاف کا مطالبہ

امریکی سینیٹر کرس وان ہولن  نے سن 2022 سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے نو امریکی شہریوں کے لیے جوابدہی اور انصاف کے اپنے مطالبے کو ایک بار پھر دہرایا ہے۔

اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں سینیٹ کے فلور پر تقریر کرتے ہوئے وان ہولن نے کہا کہ"میں اپنے ساتھیوں کو ان نو امریکی شہریوں کے بارے میں بتانے کے لیے چند منٹ لینا چاہتا ہوں جنہیں پچھلے چار سالوں کے دوران اسرائیلی آباد کاروں یا اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے ہلاک کیا ہے۔"

انہوں نے ہلاک ہونے والے افراد کے نام درج ذیل بتائے:

  • عمر اسد (عمر 78 سال)

  • الجزیرہ کی صحافی شیریں ابو عاقلہ (عمر 51 سال)

  • توفیق عبدالجبار (عمر 17 سال)

  • محمد خضور (عمر 17 سال)

  • ترک-امریکی کارکن عائشہ نور ایزگی ایگی (عمر 26 سال)

  • عامر ربیع (عمر 14 سال)

  • سیف مصلط (عمر 20 سال)

  • خمیس عیاد (عمر 40 سال)

  • نصر اللہ ابو صیام (عمر 19 سال)

سینیٹر وان ہولن نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے جنوری 2022 میں عمر اسد کو ایک چوکی پر روکا اور "انہیں گاڑی سے باہر گھسیٹا۔ انہوں نے ان کے ہاتھ پیٹھ پیچھے باندھ دیے، ان کا منہ بند کر دیا، ان کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور انہیں باہر زمین پر پڑا چھوڑ دیا۔" انہوں نے مزید کہا کہ عمر اسد کی موت "شدید ذہنی دباؤ کے باعث دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔"

مئی 2022 میں جنین پناہ گزین کیمپ کے قریب اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے شیریں ابو عاقلہ کے سر میں گولی مار کر انہیں ہلاک کر دیا تھا۔ وان ہولن نے کہا، "جب انہیں ہلاک کیا گیا، تو انہوں نے ایک چمکدار نیلے رنگ کی جیکٹ پہن رکھی تھی، جس سے واضح طور پر ان کی شناخت ایک صحافی کے طور پر ہو رہی تھی۔"

انہوں نے بتایا کہ سیئٹل میں پرورش پانے والی عائشہ نور ایزگی ایگی کو ستمبر 2024 میں "ایک اسرائیلی فوجی نے تقریباً 200 میٹر کے فاصلے سے سر میں گولی ماری تھی۔" انہوں نے یہ بھی شامل کیا کہ عامر ربیع کو "دو مختلف ہتھیاروں سے 11 بار گولی ماری گئی۔"

وان ہولن نے اسرائیل کے لیے امریکی سفیر مائیک ہکابی  کے بیان کا بھی حوالہ دیا، جنہوں نے سیف مصلط کے قتل کو "ایک مجرمانہ اور دہشت گردانہ کارروائی" قرار دیا تھا۔

وان ہولن نے سوال اٹھایا، "انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کی جوابدہی ہونی چاہیےتو پھر اب تک کوئی جوابدہی کیوں نہیں ہوئی؟"

ہر واقعے کا ذکر کرنے کے بعد انہوں نے دہرایا: "کسی کو بھی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔"

انہوں نے کہا، "نو امریکی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ لیکن کوئی جوابدہی نہیں ہوئی۔"

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی سینیٹ نے 47 کے مقابلے میں 51 ووٹوں سے اس قرارداد کو بلاک کر دیا تھا جس کی قیادت وان ہولن کر رہے تھے۔ اس قرارداد کے تحت وزیر خارجہ کے لیے لازم ہوتا کہ وہ 30 دنوں کے اندر اسرائیل کے انسانی حقوق کے طریقہ کار پر ایک رپورٹ پیش کریں، جس میں جنوری 2022 سے اسرائیلی افواج یا آباد کاروں کے ہاتھوں امریکی شہریوں کی ہلاکتیں اور ان کی تحقیقات کی صورتحال شامل ہو۔

 

دریافت کیجیے
نائیجیریا: مسلح حملہ، 20 افراد ہلاک
اسرائیل میں ہزاروں افراد کی شرکت سے احتجاجی مظاہرہ
ایران پر حملہ 'کل' ہی ہو سکتا ہے: ٹرمپ
امریکہ: مسلّح حملے میں 12 افراد زخمی ہو گئے
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
چار فلپائنی فضائیہ کے پائلٹ تربیتی مشق کے دوران فضاء میں تصادم کے نتیجے میں ہلاک
ترکیہ نے اردن میں چرچ پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی
اقوام متحدہ کی مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد اور اسرائیلی بندشوں پر تشویش
وزیر فیدان: علاقائی مسائل کے حل میں ترکیہ ذمہ داری اٹھانے  کاسلسلہ جاری رکھے گا
تائیوان میں طوفان چیمپی کے باعث 1,46,000 سے زائد گھروں کی بجلی منقطع: رپورٹ
روس: ہم نے یوکرین میں ایک بندرگاہ اور سفر کرنے والے کارگو جہاز کو نشانہ بنایا ہے
ترک خاتون اول امینہ ایردوان نے امام بخاری کے مزار پر حاضری دی
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
اسرائیلی فوج نے گولی مار کر2 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا
الہان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ