اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات سے تین روز قبل ہزاروں افراد نے تل ابیب میں مظاہرہ کیا اور وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو تبدیل کرنے اور اس کی ناکامیوں پر جواب دہی کا مطالبہ کیا۔
ہفتے کی شام یرغمالی چوک میں جمع ہونے والے ہزاروں افراد نے 7 اکتوبر کونسل کے زیرِ اہتمام منعقدہ ریلی میں شرکت کی۔ مظاہرے میں متاثرہ خاندانوں، غزہ میں ماضی میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں اور ان کے اہلِ خانہ نے بھی حصہ لیا۔
منگل کو متوقع انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی قیادت میں برسراقتدار اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان مقابلہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ اس دوران اپوزیشن کے اہم رہنما گادی آئزنکوٹ، یائیر لاپید، ایوگڈور لائبرمین اور یائیر گولان بھی مظاہرے میں شریک ہوئے۔
’’تین سال کی جدوجہد کے بعد ہم تعمیرِ نو کا عمل شروع کر رہے ہیں‘‘ کے نعرے کے ساتھ جمع ہونے والے مظاہرین نے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے دوران ہونے والی ناکامیوں کے ذمہ داروں سے جواب دہی کا مطالبہ کیا۔
گولان نے کہا کہ ’’آئندہ بدھ سے ہم ایک سرکاری تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے لیے کام کریں گے، جو حقائق سامنے لائے گا اور خاندانوں کو انصاف فراہم کرے گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ ہمارا فرض اور ہمارا مشن ہے۔ ہم حالات بہتر بنائیں گے، تعمیرِ نو کریں گے اور نقصانات کا ازالہ کریں گے۔ ہمارا پیغام یہی ہے۔‘‘
انتخابات سے قبل سڑکوں سے اٹھنے والی آواز
اپوزیشن رہنماؤں کی شرکت کے باوجود 7 اکتوبر کونسل نے زور دیا کہ یہ خاندانوں کی جانب سے منعقد کیا جانے والا ایک غیر سیاسی شہری اجتماع ہے جس کا مقصد کسی سیاسی جماعت یا انتخابی فہرست کی حمایت کرنا نہیں ہے۔
7 اکتوبر کونسل ایک شہری تنظیم ہے جو 7 اکتوبر کے حملوں کے دوران ہونے والی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد سرکاری تحقیقاتی کمیشن کے قیام کی وکالت کرتی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کے مطالبات کو مسترد کر رہے ہیں۔
اسرائیلی ٹیلی وژن چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو کی قیادت میں قائم لیکوڈ پارٹی نے جمعرات کو مرکزی انتخابی کمیشن سے رجوع کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بڑے ٹیلی وژن چینلز کو اس ریلی کی نشریات سے روک دیا جائے۔
پارٹی کا مؤقف تھا کہ یہ ریلی ’’انتخابی مہم‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔
تاہم مرکزی انتخابی کمیشن کے سربراہ، جج نوعام سولبرگ نے فیصلہ دیا کہ اس مطالبے کی حمایت میں کافی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں، لہٰذا انہوں نے درخواست مسترد کر دی۔
دوسری جانب 7 اکتوبر کونسل نے ہفتے کے روز اسرائیلی پولیس کے سربراہ ڈینی لیوی کو ایک خط بھیجا، جس میں مظاہرے کو روکنے کی ممکنہ کوششوں کے بارے میں خبردار کیا گیا۔
کونسل نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کرے اور ریلی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو روکے۔


















