دنیا
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل میں ہزاروں افراد کی شرکت سے احتجاجی مظاہرہ
مظاہرین نے نیتن یاہو کی حکومت کو تبدیل کرنے اور اس کی ناکامیوں پر جواب دہی کا مطالبہ کیا
اسرائیل میں ہزاروں افراد کی شرکت سے احتجاجی مظاہرہ
انتخابات سے قبل نیتن یاہو کے دور کے خاتمے کے لیے تل ابیب میں دسیوں ہزار افراد جمع۔ / َAA

اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات سے تین روز قبل ہزاروں افراد نے تل ابیب میں مظاہرہ کیا اور وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو تبدیل کرنے اور اس کی ناکامیوں پر جواب دہی کا مطالبہ کیا۔

ہفتے کی شام یرغمالی چوک میں جمع ہونے والے ہزاروں افراد نے 7 اکتوبر کونسل کے زیرِ اہتمام منعقدہ ریلی میں شرکت کی۔ مظاہرے میں متاثرہ خاندانوں، غزہ میں ماضی میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں اور ان کے اہلِ خانہ نے بھی حصہ لیا۔

منگل کو متوقع انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی قیادت میں برسراقتدار اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان مقابلہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ اس دوران اپوزیشن کے اہم رہنما گادی آئزنکوٹ، یائیر لاپید، ایوگڈور لائبرمین اور یائیر گولان بھی مظاہرے میں شریک ہوئے۔

’’تین سال کی جدوجہد کے بعد ہم تعمیرِ نو کا عمل شروع کر رہے ہیں‘‘ کے نعرے کے ساتھ جمع ہونے والے مظاہرین نے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے دوران ہونے والی ناکامیوں کے ذمہ داروں سے جواب دہی کا مطالبہ کیا۔

گولان نے کہا کہ ’’آئندہ بدھ سے ہم ایک سرکاری تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے لیے کام کریں گے، جو حقائق سامنے لائے گا اور خاندانوں کو انصاف فراہم کرے گا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ ہمارا فرض اور ہمارا مشن ہے۔ ہم حالات بہتر بنائیں گے، تعمیرِ نو کریں گے اور نقصانات کا ازالہ کریں گے۔ ہمارا پیغام یہی ہے۔‘‘

انتخابات سے قبل سڑکوں سے اٹھنے والی آواز

اپوزیشن رہنماؤں کی شرکت کے باوجود 7 اکتوبر کونسل نے زور دیا کہ یہ خاندانوں کی جانب سے منعقد کیا جانے والا ایک غیر سیاسی شہری اجتماع ہے جس کا مقصد کسی سیاسی جماعت یا انتخابی فہرست کی حمایت کرنا نہیں ہے۔

7 اکتوبر کونسل ایک شہری تنظیم ہے جو 7 اکتوبر کے حملوں کے دوران ہونے والی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد سرکاری تحقیقاتی کمیشن کے قیام کی وکالت کرتی ہے۔

دوسری جانب نیتن یاہو ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کے مطالبات کو مسترد کر رہے ہیں۔

اسرائیلی ٹیلی وژن چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو کی قیادت میں قائم لیکوڈ پارٹی نے جمعرات کو مرکزی انتخابی کمیشن سے رجوع کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بڑے ٹیلی وژن چینلز کو اس ریلی کی نشریات سے روک دیا جائے۔

پارٹی کا مؤقف تھا کہ یہ ریلی ’’انتخابی مہم‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔

تاہم مرکزی انتخابی کمیشن کے سربراہ، جج نوعام سولبرگ نے فیصلہ دیا کہ اس مطالبے کی حمایت میں کافی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں، لہٰذا انہوں نے درخواست مسترد کر دی۔

دوسری جانب 7 اکتوبر کونسل نے ہفتے کے روز اسرائیلی پولیس کے سربراہ ڈینی لیوی کو ایک خط بھیجا، جس میں مظاہرے کو روکنے کی ممکنہ کوششوں کے بارے میں خبردار کیا گیا۔

کونسل نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کرے اور ریلی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو روکے۔

دریافت کیجیے
پاک-ترک سعودی دفاعی معاہدہ،بل ترک پارلیمان میں پیش کردیاگیا
ہم روس کے ساتھ مذکرات کےلیے تیار ہیں:زیلسنکی
صدر ایردوان کا شام  اور ترکیہ کی خفیہ سروس کے کارکنان کے لیے تہنیتی پیغام
ایلون مسک نے اسپیس ایکس اور ٹیسلا کو یکجا کرنے کی حمایت کر دی
امریکی تجاویز اچھی ہیں مگر سیاسی رعائیتیں ملنا مشکل ہو گا:روس
اسرائیل نے غزہ میں 2 بچوں سمیت 7فلسطینی قتل کر دیئے
ترکیہ: بائیکار  نے چھٹا سیٹلائٹ خلاء میں بھیج دیا۔
فرانس میں مظاہروں کے دوران واقعات میں 2 افراد ہلاک
سرگن یالچین قومی فٹبال ٹیم کے کوچ بن گئے
ترکیہ -لیبیا معاہدہ،ترک دفتر خارجہ کا خیر مقدم
ایران: "ہمارے ملک سے افزودہ یورینیم کا ایک گرام تک باہر نہیں بھیجا جائے گا"
مسک نے یوکرینی فوج کے زیرِ استعمال اسٹارلنک سروس کی رفتار محدود کر دی
امریکہ: ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں۔
ترک وزیر دفاع قطر روانہ، دفاعی صنعتی معاہدے پر دستخط کریں گے
ایرانی پاسدارانِ انقلاب:" آبنائے ہرمز میں ایک امریکی MQ-9 ڈرون کو گرا دیا گیا ہے"