نائیجیریا کے صوبے 'ترابا 'کے گاؤں بنّاری پر مسلّح موٹر سائیکل سواروں نے حملہ کر کے 20 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔حملہ، ملک کے پہلے سے ہی تشویشناک سکیورٹی حالات کے شکار، ان دیہی علاقوں میں حالیہ مہلک حملوں کی تازہ ترین کڑی ہے ۔
اطلاعات کے مطابق جمعے کی نماز سے فوراً بعد حملہ آوروں نے گاؤں کے رہائشیوں پر فائرنگ شروع کر دی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اپنی جان بچانے کے لیے لوگ اطراف میں موجود جھاڑیوں اور جنگلاتی علاقوں کی طرف بھاگنے لگے۔
گاؤں کے رہائشی اسیاقو موسیٰ نے کہا ہے کہ ’’لوگ حملے سے بچنے کے لیے مختلف سمتوں میں بھاگ رہے تھے۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں جائے تو محفوظ رہے گا۔‘‘
موسیٰ اور گاؤں کے ایک دوسرے رہائشی سعیدو نوہو نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں کے علاقے سے چلے جانے کے بعد کم از کم 20 افراد کی لاشیں ملی ہیں جبکہ گاؤں کے متعدد رہائشی ابھی تک لاپتہ ہیں۔
تاہم، پولیس حکام کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق جمعے کی شام تک 10 لاشیں برآمد کی جا چکی تھیں۔
مقامی سماجی رہنماؤں میں شامل ملام ابوبکر سیف اللہی نے بتایا ہے کہ حملہ آور تقریباً 50 موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر گاؤں پہنچے اور ہر موٹر سائیکل پر دو مسلح افراد موجود تھے۔
نائیجیریا کے وسطی علاقے کے قریب واقع ریاست 'ترابا 'کو حالیہ عرصے میں جرائم پیشہ مسلح گروہوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نائیجیریا میں قائم دفتر نے حکام کے سکیورٹی اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہےکہ حکومت نے ملک کے شمالی علاقوں کی دیہی آبادیوں کو ایسے مسلح گروہوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے جنہیں سزا کا کوئی ڈر نہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے سوشل میڈیا سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "حکام کی جانب سے حملوں کے مشتبہ ملزمان کو مسلسل انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکامی واضح طور پر ایسے ماحول کو تقویت دے رہی ہے جہاں مجرموں کو سزا نہیں ملتی"۔























