پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز مکہ مکرمہ میں عمر ے کی ادائیگی کے بعد سعودی عرب کے تین روزہ دورے کا آغاز کر دیا ہے۔
پاکستان وزارتِ اعظمیٰ دفتر کے جاری کردہ بیان کے مطابق شہباز شریف، دوطرفہ تعاون و علاقائی پیش رفت پر ملاقاتوں کے لیے، جمعرات کے روز سعودی عرب پہنچے۔
جدہ کے کنگ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مکہ مکرمہ کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز نے ان کا استقبال کیا۔
دورے میں فیلڈ مارشل اور پاک فوج کے سربراہ 'عاصم منیر'، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ 'اسحاق ڈار' اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔
سعودی عرب میں اپنی مصروفیات کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات کریں گے ۔ مذاکرات میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ علاقائی و بین الاقوامی پیش رفتوں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
یہ دورہ اسلام آباد کی، واشنگٹن اور تہران کے درمیان، ثالثانہ کوششوں کے دوام کے دوران کیا جا رہا ہے۔
جون میں قطر بھی، امریکہ۔ ایران مذاکرات میں پاکستان کی ثالثانہ کوششوں میں شامل ہوگیا تھا۔ اس عمل کے نتیجے میں 18 جون کو ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے اور حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔
بعد ازاں آبنائے ہرمز ، بحری آمدورفت اور سمندری سلامتی سے متعلقہ اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے تھے تاہم حالیہ دنوں میں ایران، عمان اور امریکی حکام نے باقی ماندہ مسائل کے حل کی جانب پیش رفت کے اشارے دیئے ہیں۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوعان بھی آج بروز جمعہ سعودی عرب کا ایک روزہ سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔
صدراتی محکمہ اطلاعات کے سربراہ برہان الدین دران کے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر رجب طیب اردوان دورے کے لئے سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں۔
یہ دورہ پاکستان کے ، یمنی حوثیوں کی جانب سے بحری آمدورفت پر حملوں کے مقابل سمندری راستوں کے تحفظ کی خاطر سعودی زیرِ قیادت اتحاد میں شامل ہونے سے ایک ہفتے بعد کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے گزشتہ سال ستمبر میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔


















