ترکیہ وزارتِ خارجہ نے اسرائیل وزارتِ خارجہ کی جانب سے صدرِ جمہوریہ ترکیہ رجب طیب اردوعان کو نشانہ بنا کر جاری کئے گئے بیان پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ"اسرائیل وزارتِ خارجہ کا، ہمارے معزز صدر کو نشانہ بناکر جاری کیا گیا اور جھوٹ اور بہتان پر مبنی بیان نیتن یاہو سمیت اسرائیلی حکومت میں شامل مجرموں کی بزدل اور فرسودہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کرکے پوری اسرائیلی عوام کے لیے تاریخی شرمندگی کا باعث بننے والے اور جدید مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں بے مثال توسیع پسندی کا مظاہرہ کرکے علاقائی و عالمی عدمِ استحکام کے بنیادی ذمہ دار نیتن یاہو اور اس کے جرائم پیشہ گروہ کو حاصل استثنیٰ اب قانونی اور سیاسی دونوں حوالوں سے ختم ہو رہا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی اداروں کی ، گوئبلز کی پروپیگنڈا مشین کی طرح کام کرتی، کوششیں اب کافی ثابت نہیں ہو رہیں۔ عالمی برادری نیتن یاہو حکومت کے جھوٹ پر یقین نہیں کرتی۔
ترکیہ نے ہمارے معزز صدر کی قیادت میں نیتن یاہو دور میں کیے گئے جرائم کے خلاف دیانت دارانہ اور پُرعزم مؤقف اختیار کیا ہے۔ آئندہ بھی ہم سچ کا دفاع کرتے اور اسے بیان کرتے رہیں گے۔




















