مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
امریکہ ایران پر حملوں کا منصوبہ بنا رہا ہے
امریکہ کے میڈیا رپورٹس کے مطابق، وائٹ ہاؤس نے پینٹاگون سے ایران کو نشانہ بنانے کے لیے ایسے فوجی حملوں کے منصوبےتیار کرنے کی درخواست کی ہے جن پر 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی  انتخابات سے قبل عمل کیا جا سکے
امریکہ ایران پر حملوں کا منصوبہ بنا رہا ہے
امریکہ-ایران۔ / AP

امریکہ کے میڈیا رپورٹس کے مطابق، وائٹ ہاؤس نے پینٹاگون سے ایران کو نشانہ بنانے کے لیے ایسے فوجی حملوں کے منصوبےتیار کرنے کی درخواست کی ہے جن پر 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی  انتخابات سے قبل عمل کیا جا سکے۔

ان رپورٹس کے جواب میں پینٹاگون کے ایک اہلکار نے کہاکہ "وزارتِ دفاع کا کام صدر کے سامنے فوجی منصوبے  تیار کر کے پیش کرنا ہے۔"

اہلکار نے اس مخصوص منصوبہ بندی کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید۔

'دی اٹلانٹک'  کی ایک نیوز رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ممکنہ حملوں کے دائرہ کار، ہدف بنائی جانے والی فہرستوں اور حتمی منظوری پر تاحال اندرونی بحث جاری ہے، کیونکہ صدر کے متعدد مشیروں کا استدلال ہے کہ حملوں کے لیے سٹریٹجک وقت مڈٹرم انتخابات کے بعد زیادہ موزوں رہے گا تاکہ ملکی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے بچا جا سکے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے اس بات پر زور دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس کسی بھی وقت تمام  متبادل دستیاب ہیں۔

 انہوں نے مزید کہاکہ  "امریکہ انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے، صدر ٹرمپ تمام پتے اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں اور وہ وہی کریں گے جو ملک  کے لیے بہترین ہوگا۔

'ایکسیوس'  نے بدھ کو انکشاف کیا کہ پینٹاگون نے چند روز قبل امریکی سینٹرل کمانڈ  کو ایران کے خلاف توانائی، انفراسٹرکچر اور جوہری تنصیبات پر مشتمل بڑے پیمانے پر جنگی آپریشن دوبارہ شروع کرنے کی تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اگرچہ اس ہدایت میں حملے کی کوئی قطعی تاریخ مقرر نہیں کی گئی، تاہم امریکی اور اسرائیلی ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ یہ کارروائی 27 اکتوبر کو ہونے والے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ہی شروع ہو سکتی ہے۔

یہ منصوبہ بندی جمعہ کے روز ٹرمپ کی قومی سلامتی کی ٹیم کے درمیان کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے ایک طویل اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے۔

بدھ کے روز، ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو سے براہِ راست فون پر بات کی جو حالیہ دنوں میں ان کے درمیان دوسرا رابطہ تھا۔

براہِ راست دشمنی کا آغاز 28 فروری کو ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، جس کے نتیجے میں علاقائی میزائل جوابی حملے ہوئے اور آبنائے ہرمز میں خلل پیدا ہوا تھا۔

اگرچہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والی مفاہمت کی یادداشت  کے بعد جون میں جنگ بندی ہوئی تھی، تاہم جوہری مطالبات، پابندیوں اور سمندری گزرگاہوں کے معاملات پر سفارتی مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔

 

دریافت کیجیے
بھارت: پولیس نے راہول گاندھی کو گرفتار کر لیا۔
حوثیوں کا دعوی: سعودی ہوائی اڈوں اور فوجی بیسوں پر ڈرون اور میزائل حملے کئے گئے ہیں۔
صدر رجب طیب اردوان کا استنبول کے 103 ویں یوم ِنجات پر خصوصی پیغام
امریکہ: نضال ملک حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی
اسرائیل نے فوج کو غزہ پر حملوں کے لئے تیاری کا حکم دے دیا
امریکی وزیر خارجہ اچانک آئس لینڈ پہنچ گئے
امریکہ: وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے عائد کردہ جرمانوں کا نفاذ روک دیا
اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"
غزہ میں جنگ بندی مستقل طور سے بحال کروائی جائے: گوتیرس
اتحادی افواج کا یمن میں  آپریشن، حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے
"مکہ معاہدہ" سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہونگے
ماسکو پر 650 ڈرونز سے حملہ،  روس کے خلاف گزشتہ دو برسوں میں بڑا ترین دوسرا حملہ تھا
ترکیہ کا ردعمل: اسرائیل، شام میں کاروائیاں کرنا بند کرے
فرانس:طلباء کی احتجاجی تحریک جاری، 500 ہائی اسکول بند ہو گئے