روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ کی بیجنگ میں ملاقات سر انجام پائی ہے۔
یہ ملاقات اس کے چند دن بعد ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین آئے اور چینی رہنما کے ساتھ سربراہی اجلاس میں ملے، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے۔
پوتن کا عوامی عظیم ہال کے باہر سرکاری استقبالیہ کے ساتھ شی نے ان کا خیرمقدم کیا، اور اس کے بعد دونوں سربراہان کے درمیان مذاکرات ہوئے۔
ان کے مذاکرات کے ایجنڈے میں ممکنہ موضوعات میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، امریکہ-ایران جنگ، توانائی تعاون اور یوکرین تنازع شامل ہیں۔
توقع ہے کہ دونوں رہنما مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان اور دیگر معاہدوں پر دستخط کریں گے۔
تجارت اور تنازعات پر توجہ
توقع کی جا رہی ہے کہ توانائی کے شعبے میں تعاون گہرا ہوگا، جبکہ تجارتی اہداف کی تصدیق کی جا سکتی ہے یا انہیں معمولی حد تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
پوتن اور شی نے مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان اور متعدد دیگر معاہدوں پر دستخط کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
روسی صدر بعد ازاں چینی وزیرِ اعظم لی چیانگ سے اقتصادی تعاون پر تبادلہ خیال کے لیے ملاقات کریں گے۔
یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان 'اچھے ہمسایہ تعلقات اور دوستانہ تعاون کے معاہدے' کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر سر انجام پا رہا ہے۔
2023 میں روس اور چین کے درمیان دوطرفہ تجارت 240 ارب ڈالر سے زائد رہی، اور چین اب روسی خام تیل کا تقریباً 50 فیصد برآمد کرتا ہے۔












