معلوم ہوا ہے کہ اس ایپلی کیشن میں تنظیم کے ارکان کو دیے گئے آئی ڈی نمبرز کا انتخاب اتفاقیہ طور پر نہیں کیا گیا تھا، بلکہ یہ تنظیم کے اندر اُن کے عہدے اور تجربے کی ترتیب کو ظاہر کرتے تھے۔
بائی لاک سسٹم میں، جہاں کل صارفین کی تعداد 2 لاکھ 15 ہزار سے تجاوز کر چکی تھی، نمبرنگ کی شروعات ایک سے ہوتی ہے اور نمبر جتنا چھوٹا ہوتا ہے، تنظیم کے اندر اس شخص کی اہمیت اور قدر اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔
یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایپلی کیشن کے ابتدائی دور میں اسے صرف اعلیٰ سطح کے مینیجرز اور خفیہ امام استعمال کرتے تھے اور بعد میں اسے نچلی سطح تک پھیلایا گیا۔
دوسری جانب، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تنظیم کے 'گوئبلز' (Goebbels) کے نام سے معروف مفرور صحافی جوہری گووین بھی فیتو کے تحت کام کرنے والے دیگر تمام صحافیوں میں پہلے نمبر پر ہیں اور وہ تنظیم کی نظر میں سب سے اعلیٰ عہدہ رکھنے والے میڈیا عنصر ہیں۔"




















