امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف معاشی دباؤ مؤثر ثابت ہو رہا ہے اور 'ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔'
ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں خلیجی خطے کے ممالک پر جو جوابی کارروائیاں ہوئیں، خود سمیت ہر کس کو اس پر حیرت ہوئی تھی لیکن ، 'ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔'
ٹرمپ نے دعوی کیا کہ تہران کے خلیجی ممالک پر حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر اس کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں استعمال کر دیتا؛ اس سے مشرقِ وسطیٰ اور اسرائیل تباہ ہو جاتے اور یورپ اور امریکہ اگلا ہدف بن جاتے۔
انہوں نے کہا، 'اگر میں امریکہ کا صدر نہ ہوتا تو اسرائیل ختم ہو چکا ہوتا۔ ممکن ہے مشرقِ وسطیٰ بھی نہ رہتا۔'
ٹرمپ نے امریکہ کے بحری محاصرے اور ایران کے خلاف معاشی دباؤ کو مؤثر قرار دیتے ہوئے دوبارہ کہا کہ ایران 'زوال پذیر ملک' ہے۔


















