جنوبی افریقہ کے مشرقی صوبے کوازولو۔ناتال میں ایک گھر پر مسلح حملے میں 11 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے ہیں۔
جنوبی افریقہ کے نشریاتی ادارے 'ای این سی اے' کی خبر کے مطابق یہ حملہ ڈربن کے جنوب میں واقع قصبے کوا مخوٹھا میں بروز منگل مقامی وقت کے مطابق 11:00 بجے سے کچھ دیر پہلے کیا گیا۔ حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک حاملہ عورت بھی شامل ہے۔
تاحال نامعلوم ' حملہ آوروں' نے گھر میں داخل ہو کر مکینوں پر فائر کھول دیا۔ دس افراد جائے وقوعہ پر ہی ہلاک ہو گئے اور ایک شخص ہسپتال لے جاتے ہوئے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
حملہ آوروں نے فرار ہونے سے پہلے گھر کے مالک کی گاڑی کو بھی آگ لگا دی۔ ابھی تک حملے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی اور حکام نے کوئی گرفتاری یا کسی مشتبہ شخص کی شناخت نہیں کی۔
ایک مقامی باشندے نے eNCA کو بتایا ہے کہ وہ ہلاک ہونے والے کچھ لوگوں کے ساتھ پلا بڑھا ہے۔ یہ بہت افسوسناک ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ میں پلا بڑھا ہوں۔ میں اس پر یقین نہیں کر سکتا۔ یہ ایک فلم کی طرح ہے۔
اُس نے مزید کہا کہ "میں نے اپنی ساری زندگی یہاں گزاری ہے اور میں نے پہلے کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا تھا۔
واضح رہے کہ " تقریباً 62 ملین آبادی والے ملک جنوبی افریقہ میں قتل کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ملک میں روزانہ تقریباً 60 افراد مارے جاتے ہیں۔ اس ملک میں قانونی اور غیر قانونی آتشیں اسلحے عام ہیں اور گینگ دشمنی اور غیر رجسٹرڈ کاروباروں کی وجہ سے دشمنیوں کے باعث اکثر مسلح حملے ہوتے رہتے ہیں ۔ مارچ میں، فوجیوں کو ملک بھر کے پرتشدد علاقوں میں تعینات کیا گیا تھا تاکہ وسیع پیمانے پر جرائم کے خلاف جنگ میں پولیس کی مدد کی جا سکے۔ صدر سیرل رامافوسا نے جرائم کی شرح کو جنوبی افریقہ کو درپیش سب سے بڑے خطرات میں سے ایک قرار دیا ہے۔




















