روس کی حکمران سیاسی جماعت 'یونائیٹڈ رشیا 'نے ملک میں دورانِ جنگ منعقدہ پہلے پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں واضح برتری حاصل کر لی ہے۔
روس مرکزی انتخابی کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 58 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔ ان نتائج کے مطابق یونائیٹڈ رشیا کو وفاقی پارٹی فہرستوں کے ذریعے طے ہونے والی 225 نشستوں کے لیے تقریباً 58 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔
پارٹی کو باقی 225 واحد نشستوں والے انتخابی حلقوں میں بھی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہونے کا امکان ہے۔
اتوار کو رات دیر گئے پولنگ مراکز بند ہونے کے وقت ووٹ ڈالنے کی شرح تقریباً 57 فیصد تھی۔
تین روز تک جاری رہنے والے اس انتخابی عمل میں ان چار علاقوں کےرائے دہندگان بھی شامل تھے جن کا ماسکو نے 2022 کے بعد یک طرفہ الحاق کرنے کا اعلان کیا تھا اور جو اب بھی روسی قبضے میں ہیں۔ 2014 میں الحاق کیے گئے جزیرہ نما کریمیا کےرائے دہندگان بھی اس رائے شماری میں شامل تھے۔
یورپی یونین نے ان اقدامات کی مذّمت کی اور انہیں "بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی" قرار دیا تھا۔
بعض جماعتوں کو انتخابات سے باہر رکھا گیا ہے۔
جنگ مخالف بعض حزبِ اختلاف سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل سے خارج رکھا گیا ہے۔
روس کی سپریم کورٹ نے ،کھلے عام جنگ کی مخالفت کرنے والی 'لبرل یابلُوکو پارٹی 'کو بذریعہ پارٹی فہرست، انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا ہے۔
بعض جماعتوں نے ، غیر محفوظ پولنگ مراکز اور ووٹروں کی جانب سے کاغذی بیلٹ کے مطالبات مسترد کیے جانے اور انہیں الیکٹرانک ٹرمینل کے استعمال پر مجبور کئے جانے جیسی، انتخابی بے ضابطگیوں کی بھی اطلاع دی ہے۔
واضح رہے کہ روس نے یورپی سلامتی و تعاون تنظیم (OSCE) کے مبصرین کو مدعو کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
ووٹنگ کا عمل ایسے ماحول میں اختتام پذیر ہوا جب وسیع پیمانے پر فوجی سرگرمیاں جاری ہیں۔
روس وزارتِ دفاع نے اعلان کیا تھا کہ اختتامِ ہفتہ کے دوران روس، کریمیا اور بحیرۂ اسود کے اوپر فضائی دفاعی نظاموں نے یوکرین کے 1,110 ڈرون مار گرائے ہیں۔
ماسکو پر ڈرون حملوں کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں ملک کی ریفائنریوں پر کئی ماہ سے جاری حملوں کے بعد بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔


















