امریکہ اور اسرائیل ایران میں احمدی نژاد کو اقتدار میں لانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔
نیویارک ٹائمز نے منگل کو شائع کردہ خبرمیں کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے، ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے اور 28 فروری کے ابتدائی فضائی حملوں میں اُس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو ہلاک کرنے سے چند دن بعد، ایک سابق ایرانی صدر کو اقتدار میں لانے کا منصوبہ بنایا تھا۔
امریکی حکام نے ٹائمز کو فراہم کردہ معلومات میں کہا ہے کہ "یہ جرأت مندانہ منصوبہ اسرائیلیوں نے امریکی حکومت کی منظوری سے تیار کیا تھا اور اس کا مقصد تہران قیادت کو 'ایران کے اندر سے کسی شخص' کے ذریعے تبدیل کرنا تھا، جیسا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں تجویز بھی کیا تھا"۔
ٹائمز کے مطابق وہ شخص ، اپنی سخت گیر، اسرائیل مخالف اور امریکہ مخالف آراء کی وجہ سے مشہور، سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد تھے اورحکومت کی تبدیلی کے منصوبے پر اُن سے مشاورت بھی کی گئی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ احمدی نژاد کو کیوں منتخب کیا گیا لیکن چونکہ وہ 2005 سے 2013 تک اپنے دورِ صدارت میں "اسرائیل کو نقشے سے مٹا دینے"کے بیانات کے ساتھ پہچانے جاتے تھے لہٰذا وہ ایک 'غیر معمولی انتخاب' تھے۔ احمدی نژاد ایران کے جوہری پروگرام کے مضبوط حامی، امریکہ کے کڑے ناقد اور اندرونی اختلاف رائے کو سختی سے دبانے کی وجہ سے بھی مشہور تھے۔
تاہم، حکام کے مطابق یہ ابتدائی منصوبہ جلد ہی ناکام ہو گیا کیونکہ احمدی نژاد جنگ کے پہلے دن ہی ایک اسرائیلی حملے میں زخمی ہو گئےتھے۔ یہ حملہ اُنہیں تہران میں نظر بندی سے آزاد کرانے کے زیرِ مقصد اُن کے گھر پر کیا گیا تھا۔ حکام نے مزید کہا ہے کہ اس ناکام فضائی حملے کے بعد احمدی نژاد اور امریکی حکام دونوں ہی حکومت کی تبدیلی کے منصوبے سے دستبردار ہو گئے تھے۔
'زخمی' احمدی نژاد لاپتہ
ٹائمز کے مطابق، حملے میں زندہ بچ جانے والے احمدی نژاد اُس وقت سے عوامی منظر سے غائب ہیں اور امریکہ کو نہ تو اُن کے موجودہ مقام کا علم ہے اور نہ ہی اُن کی صحت کی صورتحال کا۔
خبر کے مطابق احمدی نژاد کو ایران کا نیا رہنما بنانے کا منصوبہ دراصل ایران کی مذہبی حکومت کو گرانے کے لیے اسرائیل کی تیار کردہ 'کثیر المرحلہ حکمتِ عملی' کا حصہ تھا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے نہ صرف اپنے مقاصد حاصل کرنے کی رفتار کا غلط اندازہ لگایا بلکہ ایک ایسے خطرناک منصوبے پر بھی شرط لگا دی جسے ٹرمپ کے بعض مشیر بھی قابلِ یقین نہیں سمجھتے تھے۔
وائٹ ہاؤس نے اقتدار کی تبدیلی میں احمدی نژاد کے کردار سے متعلق ٹائمز کے سوالات کا جواب نہیں دیا تاہم ایران کے خلاف امریکی جنگی اہداف پر ایک بیان جاری کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی نے کہا ہے کہ "صدر ٹرمپ شروع ہی سے آپریشن 'ایپک ریج' کے مقاصد کے بارے میں واضح تھے۔ یہ مقاصد ایران کے بیلسٹک میزائل کی تباہی، اس کی پیداواری تنصیبات کے خاتمے، اس کی بحری طاقت کی تباہی اور اس کی پراکسی قوتوں کو کمزور کرنے پر مبنی تھے۔ امریکی فوج نے اپنے تمام اہداف حاصل کئے یا اُن سے بھی بڑھ کر کامیابی حاصل کی اور اب ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک ایسے معاہدے پر کام کر رہے ہیں جو ایران کی جوہری صلاحیتوں کا مکمل خاتمہ کر دے گا"۔
ایرانی قیادت تبدیل کرنے کا منصوبہ تقریباً دو ماہ پہلے اُس وقت سامنے آیا تھا جب 3 جنوری کو اُس وقت کے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کیا گیا اور امریکہ نےملک میں وائٹ ہاؤس کے ساتھ قریبی تعاون کرنے والی ایک عبوری قیادت قائم کرنے میں مدد دی۔
تاہم ایران کے معاملے میں ایسا نہیں ہو سکا اور اب بھی بہت سے سوالات باقی ہیں۔ مثلاً یہ کہ، خاص طور پر اس ناکام فضائی حملے کے بعد جس میں احمدی نژاد زخمی ہوئے اور پورا منصوبہ ناکام ہو گیا،امریکہ اور اسرائیل کیسے احمدی نژاد کو اقتدار میں لانا چاہتے تھے؟













