الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون نے ملک میں حالیہ جنگلاتی آگ کے نتیجے میں 12 افراد کی ہلاکت کے بعد، جان بوجھ کر جنگلات میں آگ لگانے والوں کے لیے سزائے موت کو بحال و فعال کرنےکا حکم دیا ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، تبون نے یہ ہدایت ، جنگلاتی آگ کے اثرات کے جائزے کے لئے اور اعلیٰ سطحی سِول اور فوجی حکام کی شرکت سے منعقدہ اجلاس کے دوران دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق تبون نے اجلاس میں وزیرِ انصاف کو ہدایت دی ہے کہ وہ 15 ستمبر تک فوجداری قانون میں ایسی ترمیم پیش کریں جس کے تحت جنگلاتی علاقوں میں جان بوجھ کر آگ لگانے والوں کو سزائے موت دینے کی گنجائش پیدا ہو جائے۔
قانونی دفعات
سرکاری ٹیلی ویژن کی خبر کے مطابق سزائے موت اس وقت تک نافذ نہیں کی جائے گی جب تک تمام قانونی اپیلوں کے راستے مکمل طور پر ختم نہ ہو جائیں۔
واضح رہے کہ الجزائر کے فوجداری قانون میں مختلف جرائم کے لیے سزائے موت اب بھی موجود ہے تاہم ملک میں 1993 سے سزائے موت پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔
موجودہ قانون کے تحت جان بوجھ کر جنگلات میں آگ لگانے کے جرم کی سزا بعض سنگین حالات میں عمر قید سمیت زیادہ سے زیادہ 30 سال تک قید ہو سکتی ہے۔


















