مولدووا نے ملک کے جنوب میں واقع گاؤں کروکماز میں حکام کی جانب سے ڈرون میزائل کے دھماکے کے بعد مشاورت کے لیے روس میں متعین اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔
مولدووا کی وزارتِ خارجہ نے گزشتہ روز اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس سے شہریوں کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
وزارت نے کہا کہ جمہوریہ مولدووا یوکرین کے خلاف روس کی جارحانہ جنگ اور ہمارے ملک اور پورے خطے کی سلامتی پر اس کے اثرات کی مذمت کرتا ہے۔
صدر مایا ساندو نے بھی اس دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مولدووا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ساندو نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ روس کی جنگ کا براہِ راست نتیجہ ہے اور یہ ہم سب کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
ہمارے خطے میں انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ حقیقی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،اسے ختم ہونا چاہیے۔
سرکاری نیوز ایجنسی مولڈ پریس نے پولیس کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ اتوار کی دوپہر کو یوکرین کے علاقے اودیسا سے تقریباً 69 کلومیٹر دور کروکماز میں ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں علاقے کی نباتات میں آگ لگ گئی۔
پولیس نے بتایا کہ ڈرون ایک جنگلاتی علاقے میں درخت سے ٹکرانے کے بعد زمین سے تقریباً 2.5 میٹر کی بلندی پر پھٹ گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ملبے کے ٹکڑے وسیع رقبے پر پھیل گئے اور کئی گھروں کو نقصان پہنچا۔
روس نے مولدووا کے اس حالیہ بیان پر اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
















