ایران کی وزارتِ خارجہ نے حال ہی میں امریکی افواج کی جانب سے ایک کارگو جہاز کی ضبطی کی مذمت کی ہے جس پر الزام ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔
وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارتِ خارجہ اتوار کے روز ہمارے تجارتی جہاز توسکا پر امریکی دہشت گرد فوج کے غیر قانونی اور پُرتشدد حملے کی سخت مذمت کرتی ہے
اس واقعے کو بحری قزاقی اور دہشت گردی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی اور امریکہ کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی بھی خلاف ورزی ہے جو 7 اپریل سے شروع ہوئی تھی۔
ایران نے اپنے پرچم بردار جہاز کے ساتھ ساتھ اس کے عملے اور ان کے خاندانوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
بیان میں کہا گیا ہےکہ بلا شبہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے دفاع اور ایرانیوں کے حقوق اور وقار کے تحفظ کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائے گا جبکہ مزید کشیدگی کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ امریکی بحری افواج نے خلیجِ عمان میں ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز توسکا کو اس وقت ضبط کیا جب اس نے مبینہ طور پر ناکہ بندی کی ہدایات پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
سینٹ کام نے پیر کے روز کہا کہ یکم اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد سے امریکی افواج 27 تجارتی جہازوں کو واپس مڑنے یا کسی ایرانی بندرگاہ کی طرف لوٹنے کی ہدایت دے چکی ہیں۔












