امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن وینزویلا کی مدد کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ نے وینزویلا میں دو شدید زلزلوں کے بعد بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل سے جاری کردہ ایک پیغام میں کہا ہے کہ"وینزویلا کے عظیم عوام ابھی دو بڑے زلزلوں کی زد میں آئے ہیں، جو نہ صرف شدت کے لحاظ سے بہت بڑے تھے بلکہ ان کے نتیجے میں تباہ کن جانی نقصان بھی ہوا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا ہے کہ"امریکہ مدد فراہم کرنے کے لیے تیار اور اس کا خواہش مند ہے اور مکمل طور پراس کا اہل بھی ہے!"
ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ انہوں نے تمام وفاقی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ "تیزی سے کارروائی کے لیے تیار رہیں۔"
امریکی صدر نے مزید کہا ہے کہ"ہم اپنے نئے اور عظیم دوستوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔"
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کی تازہ ترین تکنیکی معلومات کے مطابق، وینزویلا کے شمالی علاقے کو یکے بعد دیگرے دو طاقتور زلزلوں نے شدّت سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ماہرینِ زلزلہ کے مطابق، پہلا زلزلہ 7.2 شدت کا تھا جو ریاست یاراکوی کے دارالحکومت سان فیلپے کے قریب آیا۔ اس کے صرف 40 سیکنڈ بعد یومارے کے جنوب مشرق میں 7.5 شدت کا ایک اور، زیادہ تباہ کن مرکزی زلزلہ آیا۔
یہ مرکزی زلزلہ وینزویلا کی تاریخ میں ریکارڈ کیا جانے والا سب سے طاقتور زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے اور گزشتہ 125 برسوں میں آنے والا شدید ترین زلزلہ سمجھا جا رہا ہے۔
ابھی تک نقصانات کی مکمل تفصیلات اور ہلاکتوں کی سرکاری تعداد جاری نہیں کی گئی۔
امریکی حکومت نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ امدادی اقدامات کی نوعیت کیا ہوگی، تاہم ٹرمپ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن زمینی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے امداد فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے بدھ کی رات ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ان شدید زلزلوں کے بعد کیا گیا جنہوں نے ملک کے شمالی کیریبین ساحلی علاقوں کو متاثر کیا، وسیع پیمانے پر تباہی مچائی، اور پورے خطے میں سونامی کی وارننگ کے اجراء کا سبب بنے ہیں۔















