مشرق وسطی
2 منٹ پڑھنے
ایران نے ایٹمی ایجنسی کی ٹیم کےملک میں آنے پر رضا مندی ظاہر کر دی
امریکی نائب صدر جے ڈی وانس  نے بتایا ہے کہ تہران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی  کےمعائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں آنے کی دعوت دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے
ایران نے ایٹمی ایجنسی کی ٹیم کےملک میں آنے پر رضا مندی ظاہر کر دی
ایران-امریکہ

امریکی نائب صدر جے ڈی وانس  نے بتایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ-ایران مذاکرات کے پہلے دور کے بعد تہران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی  کےمعائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں آنے کی دعوت دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

وانس نےگزشتہ روز سوئٹزرلینڈ کے بورگن سٹاک  ریزورٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانیوں نے عالمی ایجنسی  کے  معائنہ کاروں  کو واپس بلانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ امریکی عوام کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے اور ایران میں جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو مستقل طور پر ختم کرنے یا مستقل طور برقی تخفیفِ اسلحہ کی طرف پہلا قدم ہے۔

یاد رہے کہ  ان کے یہ مذاکرات اتوار کے روز ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کے ساتھ شروع ہوئے تھے۔

سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے یہ مذاکرات گزشتہ ہفتے طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے تحت مقررہ دو ماہ کے مذاکراتی دور کا پہلا مرحلہ تھے۔

ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک، پاکستان اور قطر نے بتایا کہ مذاکرات کاروں نے "60 دنوں کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے روڈ میپ" پر اتفاق کیا ہے۔

تکنیکی مذاکرات ہفتے کے باقی دنوں میں وسطی سوئٹزرلینڈ کے ایک ہوٹل کمپلیکس بورگن سٹاک میں جاری رہیں گے۔

حتمی معاہدے کا مقصد اس جنگ کا خاتمہ کرنا ہوگا جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی تھی، جس کے جواب میں تہران نے پورے خطے میں میزائل اور ڈرون حملے کیے اور عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ، آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کر دیا۔

مذاکرات کاروں کا مقصد تہران کے جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم سمیت ان چند انتہائی پیچیدہ مسائل کو حل کرنا ہے جو کئی دہائیوں سے امریکہ اور ایران کے تعلقات کو متاثر کر رہے ہیں۔



 

دریافت کیجیے