جنوبی کوریا کی عدالت نے سابق صدر یون سک یول کو ایک سیاسی ثالث سےتقریباً 179,800 امریکی ڈالر مالیت کی عوامی رائے شماری خدمات مفت حاصل کرنے کا مجرم قرار دے کر دو سال سزائے قید سزا سنادی ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کی شائع کردہ خبر کے مطابق پیر کے روز سنائے گئے فیصلے میں سیئول مرکزی ضلعی عدالت نے کہا ہے کہ یون نے اجرت ادا کئے بغیر 14 مرتبہ رائے عامہ سروے کروائے اور اس کے بدلے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کر کے ایک سابق رکنِ پارلیمنٹ کی دوبارہ امیدوار نامزدگی کو یقینی بنایا اور اس طرح سیاسی مالیاتی قوانین کی خلاف ورزی کی۔
یون نے تمام الزامات کو مسترد کیا اور کہا ہےکہ نہ انہوں نے کسی عوامی رائے شماری کی درخواست کی تھی اور نہ ہی اس کے بدلے میں کسی قسم کا وعدہ کیا تھا۔
یہ فیصلہ اس سے قبل سابق خاتونِ اول 'کم کیون ہی 'سے متعلق مقدمات میں سنائے گئے عدالتی فیصلوں سے مختلف ہے۔ ان سابقہ فیصلوں میں عوامی رائے شماری خدمات کے بدلے کسی باہمی مفاد کے تعلق کا تعین نہیں کیا گیا تھا۔
پیر کے روز سنائے گئے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔
65 سالہ یون اس وقت مجموعی طور پر آٹھ مختلف فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ 2024 میں مختصر مدت کے لیے مارشل لا نافذ کرنے کے لئے اقدامِ بغاوت کے جرم میں سزا پانے کے بعد، انہوں نے فروری میں سنائی گئی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل بھی دائر کی تھی۔
ایک علیحدہ مقدمے میں، سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس کے تحت یون کو گرفتار ی دینے میں رکاوٹ کے جرم میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔




















