وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والا توانائی کا معاہدہ 25 سال تک نافذ العمل رہے گا۔ معاہدے کے تحت خام تیل کی پیداوار بڑھا کر یومیہ 15 لاکھ بیرل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم ملک اپنے قدرتی وسائل پر اپنی خودمختاری برقرار رکھے گا۔
روڈریگیز نے رات گئےجاری کردہ خطاب میں اس معاہدے کو معیشت کی بحالی اور حکومتی آمدنی میں اضافے میں مدد دینے والا ایک "تاریخی" معاہدہ قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ معاہدہ ملک کے مستقبل کی تشکیل کرے گا۔
روڈریگیز نے سرکاری ٹیلی ویژن VTV کو دیئے گئے بیان میں کہا ہے کہ "یہ 25 سالہ دو طرفہ منصوبہ تیل کے 17 اسٹریٹجک میدانوں کی ترقی کا تصور پیش کرتا اور یومیہ 15 لاکھ بیرل سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔"
انہوں نے کہا ہے کہپہلے مرحلے میں یومیہ 15 لاکھ بیرل پیداوار دی جائے گی۔ علاوہ ازیں شعبہ توانائی کے وسیع تر ترقیاتی منصوبے کے تحت تیل کے ایسے آٹح بلاک بھی پیداوار کے لیے کھولے جائیں گے جنہیں اس سے قبل ترقی نہیں دی گئی تھی۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امید کے ساتھ کہ امریکی کمپنیاں وینزویلا کے شدید متاثرہ شعبہ تیل کو دوبارہ فعال کر سکتی اور امریکہ میں ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کے لیے تیل فراہم کر سکتی ہیں، جمعہ کے روز وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر جزوی کنٹرول حاصل کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا ۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ واشنگٹن نے نجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے 65 ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ تیل کے ذخائر پر اکثریتی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر کا مالک وینزویلا، کئی برسوں سے سرمایہ کاری کی کمی اور پابندیوں کے بعد اس وقت تقریباً یومیہ 12 لاکھ 50 ہزار بیرل تیل پیدا کر رہا ہے۔



















