صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکہ۔اسرائیل جنگ کے خاتمے کے لیے "بڑی مصالحت" کا اعلان کیا اور کہا ہےکہ ہمیں توقع ہے کہ یہ معاہدہ اس ہفتے کے آخر تک یورپ میں دستخط کے لیے تیار ہو گا۔
ٹرمپ، اپنی 80ویں سالگرہ پر بروز اتوار وائٹ ہاؤس میں ایک کیج فائٹ کی میزبانی کر رہے ہیں اور کل بروز جمعرات جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ دستخط کی تقریب میں نائب صدر جے ڈی وینس واشنگٹن کی نمائندگی کریں گے۔
صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ ، ان کے ایران کے خلاف تازہ حملوں کا وعدہ کرنے اور بعد میں ان حملوں کو منسوخ کرنے کے بعد سامنے آیا ہے ۔ ایران کی جانب سےاس کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی اور ٹرمپ نےبھی ان شقوں کے بارے میں کوئی ٹھوس تفصیلات فراہم نہیں کیں جن پر اتفاق ہوا ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے بات چیت میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ "ہم، ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لئے، ایک بڑے مصالحتی معاہدے تک پہنچ گئے ہیں۔دستاویزات آئندہ چند دنوں میں مکمل ہو جائے گی اور مکمل ہونے کی صورت میں ایک قوی احتمال کے مطابق یورپ میں اس پر دستخط کر دیئے جائیں گے۔ یہ ایک عمدہ بات ہے"۔
تاہم ایران وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی نے کہا ہے کہ "تہران نےابھی تک ممکنہ امریکی معاہدے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور ہم، مذاکرات میں اپنی 'سرخ لکیروں' پر سمجھوتہ نہیں کریں گے"۔
باغائی نے کہا ہے کہ معاہدے پر دستخط کے وقت اور مقام سے متعلق خبریں قیاس آرائی ہیں اور ابھی کوئی چیز حتمی نہیں ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ مذاکراتی متن کا بڑا حصہ حتمی شکل میں ہے مگر امریکہ نے مذاکرات کے دوران بار بار اپنے تیور بدلے ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ گزشتہ دو ماہ میں ٹرمپ 38 مرتبہ معاہدے کے قریب ہونے کا اعلان کر چُکے ہیں۔
ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ "جب تک ایران ممکنہ سمجھوتے کے بارے میں اعلان نہیں کرتا، اس موضوع پر ٹرمپ کا کوئی بھی بیان ان کے گزشتہ بیانات جیسا ہی تصور کیا جانا چاہیے"۔
ٹرمپ نے کہا ہےکہ مجھے یقین ہے کہ ایران کے دینی رہنما مجتبیٰ خامنہ ای نے بذاتِ خود اس معاہدے کی منظوری دی ہے۔ ایران کو سخت دھچکہ لگا ہے اسی وجہ سے وہ مذاکرات کی میز پر آئے ہیں"۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت ایران کبھی جوہری ہتھیار رکھنے یا خریدنے سے خود کو روکے گا۔
ٹرمپ نے مزید کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جو تیل کی ترسیل کا ایک اہم آبی راستہ ہے اور جسے ایران نے بند کرنے کا دعویٰ کیا تھا ، معاہدے کے دستخط کے بعد دوبارہ کھل جائے گا۔
انہوں نے کہا ہے کہ "یہ ایک بہت مضبوط مفاہمت نامہ ہے، جو تھوڑا تصوراتی نوعیت کا ہے"۔
ایران اور امریکہ نے چند ہفتوں تک ایک مفاہمت نامے پر بات چیت کی ہے اور خبروں کے مطابق یہ معاہدہ، تہران کے جوہری پروگرام پر مزید تفصیلی مذاکرات کی خاطر، جنگ کو 60 سے 90 دن کے لیے روک دے گا ۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں ایک نازک جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا لیکن حالیہ دنوں میں دوبارہ دونوں جانب سے فائرنگ کے تبادلے ہوئے ہیں۔










