'احساسِ ندامت و پشیمانی"ہمارا مقدر بن چکی ہے :اسرائیلی فوجیوں کا اعتراف
مشرق وسطی
7 منٹ پڑھنے
'احساسِ ندامت و پشیمانی"ہمارا مقدر بن چکی ہے :اسرائیلی فوجیوں کا اعترافاسرائیلی اخبار ہارتز میں 17 اپریل کو شائع ہونے والے ایک اعترافی انٹرویو میں، 34 سالہ سابق اسرائیلی فوجی اور کمپیوٹر پروگرامر یووال کہتا ہے: “میرے پاس اچھے جواب نہیں ہیں۔ میرے پاس کوئی جواب ہی نہیں ہے۔ جو کچھ میں نے کیا وہ ناقابلِ معافی ہے۔ کوئی ک
اسرائیلی فوجی / Reuters

اسرائیلی اخبار ہارتز میں 17 اپریل کو شائع ہونے والے ایک اعترافی انٹرویو میں، 34 سالہ سابق اسرائیلی فوجی اور کمپیوٹر پروگرامر یووال کہتا ہے: “میرے پاس اچھے جواب نہیں ہیں۔ میرے پاس کوئی جواب ہی نہیں ہے۔ جو کچھ میں نے کیا وہ ناقابلِ معافی ہے۔ کوئی کفارہ نہیں ہے۔”

میں خود کو ایک عفریت محسوس کر رہا تھا: آئی ڈی ایف کے فوجی ‘اخلاقی زخم’ — اور خاموشی”، کے عنوان سے شائع خبر اسرائیل کے اس احتیاط سے گھڑے گئے افسانے کو چکناچور کر دیتی ہے کہ اس کے پاس دنیا کی “سب سے اخلاقی فوج” ہے۔

 مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں قتل کے میدانوں میں تعینات اسرائیلی یونٹس نے اندھا دھند قتل، تشدد، لوٹ مار اور پردہ پوشی جیسے اقدامات کیے ہیں۔

جب وہ شہری زندگی میں واپس آتے ہیں تو کچھ کو احساسِ جرم سے نمٹنا پڑتا ہے۔

 تاہم ہارتز میں شامل وہ قصے جو بعض اسرائیلی فوجیوں کے مبینہ “اخلاقی زخم” کو نمایاں کرتے ہیں، غزہ کے ہر کونے میں بے شمار فلسطینی متاثرین پر ڈھائے گئے ناقابلِ واپسی خوف کے مقابلے میں ماند پڑ جاتے ہیں۔

دسمبر 2023 میں خان یونس میں صلاح الدین روڈ کے قریب، یووال کی یونٹ نے اس وقت حملہ کیا جب ایک ڈرون نے “مشکوک افراد” دیکھنے کی اطلاع دی۔

اس نے “پاگلوں کی طرح” فائرنگ کی؛ پھر اسے احساس ہوا کہ اس نے ایک نہتے بوڑھے آدمی اور تین کم عمر بچوں کے قتل میں مدد کی ہے۔ لاشیں گولیوں سے چھلنی تھیں، اعضا باہر نکل آئے تھے۔

کمپنی کمانڈر آیا۔ ایک فوجی نے لاشوں پر تھوکا اور چلایا: “جو کوئی اسرائیل سے پنگا لیتا ہے اس کے ساتھ یہی ہوتا ہے، …”

یووال صدمے سے نڈھال  ہو گیا مگر اس نے کچھ نہیں کہا۔

اس نے ہارتز کو بتایا: “میں ایک ہارا ہوا انسان ہوں، مکمل بزدل۔”

 اکتوبر 2023 سے 2025 کے اختتام کے درمیان 80,000 سے زائد اسرائیلی فوجیوں نے نفسیاتی عوارض کے باعث علاج کروایا۔

 اکتوبر 2025 تک، اسرائیلی فوج نے گزشتہ 18 ماہ میں 279 خودکشی کی کوششیں ریکارڈ کیں؛ ان میں سے 36 ہلاک ہو گئے۔

ہارتز کا مضمون ظاہر کرتا ہے کہ بظاہر احتساب سے بالاتر اسرائیلی فوجیوں کے لیے بھی اگرچہ غیر متناسب، معمولی اور غیر منصفانہ طور پر ہی سہی، “جیسا بوؤ گے ویسا کاٹو گے” کا محاورہ لاگو ہوتا ہے۔

آخرکار یہ اسرائیلی زندہ رہتے ہیں، سانس لیتے ہیں، اپنی دوائیں لیتے ہیں اور تھراپی سیشنز میں شرکت کرتے ہیں، جبکہ ان کے بے نام فلسطینی متاثرین ٹنوں ملبے  نیچے بے نام قبروں میں پڑے ہیں، ایک مناسب جنازے کی عزت سے بھی محروم ہیں۔

فوج سے فارغ ہونے کے بعد تل ابیب واپس آ کر، یووال خود کو “عفریت” محسوس کر رہا تھا کیونکہ اس نے بے گناہ لوگوں کو مارنے میں بغیر کسی ضمیر کی جھجھک کے حصہ لیا تھا۔

اس نے اپنی ہائی ٹیک ملازمت چھوڑ دی، خود کو ہڈ والی جیکٹس میں چھپایا، آئینے توڑ دیے اور خودکشی کے خیالات کا ذکر کیا۔

 “شاید میں کسی طرح مرنا چاہتا ہوں، سب ختم ہو جائے۔”

 ہارتز سے بات کرنے کے دو دن بعد اسے نفسیاتی وارڈ میں داخل کر دیا گیا۔

تاہم اس کے متاثرین  بلکہ ان کی لاشیں  اب بھی غزہ میں کہیں ملبے کے نیچے پڑی ہیں؛ اسرائیل اکتوبر 2023 سے یہاں کم از کم چھ “ہیروشیما جتنے” ایٹم بموں کے برابر سیکڑوں ٹن دھماکہ خیز مواد گرا چکا ہے۔

یووال کے بے شمار متاثرین کے عزیزوں کو تھراپی یا اینٹی ڈپریسنٹس تک رسائی نہیں ہے۔ وہ اپنی تمام املاک اور ذریعۂ معاش کھونے کے بعد عارضی خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ہارتز کی رپورٹ میں شامل ہر انٹرویو میں جنگی جرائم کے حوالے سے احساسِ جرم بار بار سامنے آتا ہے۔

مایا، زرہ بند کور کی ریزرو یونٹ میں ہیومن ریسورسز افسر تھی؛ جنوبی غزہ میں ایک کمانڈ روم میں موجود تھی جب پانچ نہتے فلسطینی فوج کی طے کردہ “لکیر” عبور کر گئے۔

کمانڈر نے فائر کا حکم دیا۔ ایک ٹینک کی مشین گن نے بے بس فلسطینیوں کو نشانہ بنایا اور چند سیکنڈ میں سینکڑوں گولیاں چلائیں۔ چار موقع پر ہی مارے گئے۔

 ایک بلڈوزر فوراً آیا اور انہیں دفن کر دیا تاکہ کتے نہ کھائیں اور بیماری نہ پھیلے ۔

جو شخص زندہ بچا، اسے ہتھکڑیاں لگا کر اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر پنجرے میں بند کیا گیا، اور ہنستے ہوئے فوجیوں نے اس پر پیشاب کیا۔

مایا بھی مرد اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ ہنسی۔

بعد میں ایک اسرائیلی تفتیش کار نے تصدیق کی کہ وہ فلسطینی بے گناہ تھا۔ وہ صرف اپنے گھر جانے کی کوشش کر رہا تھا۔

لیکن اس کی بے بسی نے مایا کو “منافق” اور “گندی” محسوس کروایا۔

 مایا نے وسواسی طور پر نہانا شروع کر دیا۔

میں نے بس کھڑے ہو کر کچھ کیوں نہیں کیا؟ یہ میرے بارے میں کیا کہتا ہے؟”

 ‘ہم کیا بن گئے ہیں؟’

ایک اور فوجی، یہودا، نے دیکھا کہ ایک نہتے فلسطینی کو، جس نے ہاتھ اوپر اٹھا کر ہتھیار ڈال دیے تھے، ایک افسر نے قتل کر دیا۔

 ڈرون فوٹیج نے اس لمحے کو قید کیا

 وار روم میں کچھ افسروں نے اسے “قتل” قرار دیا مگر اسے چھپانے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے رپورٹ کیا کہ ایک “دہشت گرد” کو مارا گیا۔ کوئی بریفنگ نہیں ہوئی اور قاتل بغیر کسی ردعمل کے ایک اسرائیلی افسر کے طور پر اپنی ڈیوٹی جاری رکھتا رہا۔

یہودا نے بھی اس وقت خاموش رہنے کا انتخاب کیا۔

مہینوں بعد میڈرڈ میں اپنی بیوی کے ساتھ پراڈو میوزیم کا دورہ کرتے ہوئے، ایک گویا کی پینٹنگ جس میں ہتھیاروں کے سامنے بے بس ایک شخص دکھایا گیا تھا، اسے عوامی طور پر ٹوٹنے پر مجبور کر گئی۔

وہ اچانک پسینہ پسینہ ہو گیا اور بے قابو ہو کر رونے لگا۔

میں کیسے ایسا شخص بن گیا جو ایک طرف کھڑا رہا اور صحیح کام نہیں کیا؟”

اسرائیل کی نحال بریگیڈ کے نشانہ بازوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے مدد کی تلاش میں اور فوج کی مقرر کردہ من مانی حدود پار کرنے والے فلسطینیوں کو گولی ماری۔

 نشانہ بازوں کے لیے دوربین سے دیکھتے ہوئے یہ ایک “کمپیوٹر گیم” جیسا لگتا تھا؛ یہاں تک کہ معصوم فلسطینیوں کے چہرے جو خوراک کی تلاش میں تھے، ان کے ذہنوں پر حاوی ہونے لگے۔

ایک نشانہ باز نے بتایا کہ فوجی سروس سے فارغ ہونے کے بعد وہ راتوں کو بستر گیلا کرتا ہے۔

اس نے کہا  کہ جن لوگوں کو تم مارتے ہو، ان کے چہرے نہیں بھولتے،” ۔

دیگر نے بتایا کہ انہوں نے فلسطینی گھروں — سفید سامان، سونا، نقدی — لوٹے؛ فوجیوں نے خاندانی تصاویر جلائیں اور ان پر پیشاب کیا، اور اسے نازیوں سے چرانے کے طور پر جائز ٹھہرایا۔

ایک فوجی نے اعتراف کیا کہ اسے گھن آئی مگر اس نے سر ہلا کر منظوری دی۔

غزہ کے شمال میں ایک تفتیشی کمرے کی حفاظت کرنے والے ایتان نے دیکھا کہ ایک تفتیش کار نے ایک قیدی کو برہنہ کیا اور اس کے حساس حصوں پر تاریں باندھ دیں، اور ہر بے جواب سوال پر تاریں مزید کسیں، یہاں تک کہ وہ شخص چیخنے لگا جیسے “اس کی روح جسم سے نکل رہی ہو۔

ایتان نے کہا کہ تہہ خانوں میں اور کیا ہو رہا ہے؟ ہم کون سے راز چھپا رہے ہیں؟”

 ہارتز اخبار کے مطابق “گائے” نامی ایک شخص اکتوبر 2023 کے بعد سینکڑوں دن ریزرو ڈیوٹی پر رہا۔ “خصوصی طریقوں” سے “دہشت گردوں” کو مارنے کے لیے سرنگی آپریشنز کچھ فوجیوں کو پرجوش کرتے تھے، مگر اس نے اس عمل میں ہولوکاسٹ کی بازگشت دیکھی۔

جلے ہوئے گوشت کو برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے وہ سبزی خور بن گیا۔

“ہم کیا بن گئے ہیں؟ میں کیا بن گیا ہوں؟”

دریافت کیجیے
ہمارے جہاز پر قبضہ بحری قزاقی ہے،مذمت کرتے ہیں :ایران
ایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
اسرائیل کا تازہ حملہ،3 فلسطینی ہلاک
جاپان: 7،4 کی شدت سے زلزلہ، سونامی کی وارننگ
پاکستان کا اشارہ: ایران مذاکرات میں شرکت کرے گا
ایران  نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے جرم میں دو افراد کو تختہ وار پر لٹکا دیا
شمالی کوریا نے کلسٹر بم اور بیلسٹک میزائلوں کا آزمائشی تجربہ کر ڈالا
اسرائیل: جنوبی لبنان کے باشندے سرحدی علاقوں سے دور رہیں
روس: یوکرین نے تواپسے بندرگاہ کو نشانہ بنایا ہے
امریکی فوجی حملے میں کیریبین میں تین افراد ہلاک، 'منشیات اسمگلنگ' کے خلاف مہم میں تیزی
عیسی مسیح کے علامتی مجمسے کی بے حرمتی کی ہے:اسرائیلی فوج کا اعتراف
خلیج عمان میں امریکی ایرانی کشیدگی میں اضافہ
امریکہ، جاپان اور فلپائن نے بڑے پیمانے کی فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: امریکہ کی "بحری قزاقی" کا بھرپور جواب دیا جائے گا
جنوبی لبنان میں 1اسرائیلی فوجی ہلاک،نو زخمی