دنیا
2 منٹ پڑھنے
یورپی یونین: بحیرہ احمر میں متعین جنگی جہازوں کی تعداد بڑھائی جائے
رکن ممالک، بحیرہ احمر میں یورپی یونین کے میری ٹائم سکیورٹی مشن کی مضبوطی کے لیے، اضافی جنگی بحری اور ہوائی جہاز متعین کریں: کاجا کالاس
یورپی یونین: بحیرہ احمر میں متعین جنگی جہازوں کی تعداد بڑھائی جائے
14 ستمبر 2026 کو فن لینڈ میں یورپی آرکٹک سمٹ کے دوران کایا کالس میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہی ہیں۔ (رائٹرز)

یورپی یونین کی نمائندہ اعلیٰ برائے خارجہ امور' کاجا کالاس' نے رکن ممالک سے، بحیرہ احمر میں یورپی یونین کے میری ٹائم سکیورٹی مشن کو مضبوط بنانے کے لیے، اضافی جنگی بحری اور ہوائی جہاز وں کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔

کاجا کلاس نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دائرہ کار میں منعقدہ  یورپی یونین وزرائے خارجہ  اجلاس  میں شرکت کے بعد نیویارک سے جاری کردہ بیان میں  خبردار کیا ہے کہ موجودہ بحری طاقت بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہے لہٰذا  رکن ممالک کو  بحیرہ احمر میں یورپی یونین کے میری ٹائم سکیورٹی مشن  میں  اضافی جنگی بحری اور ہوائی جہازوں کو بھیجنا چاہیے۔

انہوں  نے کہا  ہےکہ آبنائے باب المندب کے ارد گرد بحری خطرات میں اضافے کے باعث آپریشن ایسپائیڈس کو وسعت دی جانی چاہیے۔ اگر بحیرہ اسود، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں سیر و سفر معطل ہوتا  ہے تو ان اہم سمندری گزرگاہوں کے اثرات ان کے اپنے محلِ وقوع سے سے کہیں زیادہ دُور تک پھیل سکتے ہیں۔

کالاس نے کہا ہے کہ  مشن کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ یمن میں حوثیوں کے حملوں سے تجارتی بحری جہازوں کو بچانے میں مدد کے لیے 2024 میں آپریشن ایسپائیڈس شروع کیا گیا تھا۔ یہ دفاعی مشن بحیرہ احمر اور ارد گرد کے پانیوں میں کام کرتا  اور تجارتی جہازوں کی حفاظت  کرتا ہے۔

انہوں  نے کہا ہے کہ موجودہ سکیورٹی ماحول کا مناسب جواب دینے کے لیے آپریشن کو 10 سے زیادہ جنگی جہازوں کی ضرورت ہوگی۔

 رائٹرز کے مطابق مشن کے پاس اس وقت چھ جنگی جہاز ہیں جن میں اٹلی اور یونان اہم تعاون کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔ کمک کے مطالبات کے باوجود، یورپی یونین کے رکن ممالک نے ابھی تک مشن کی ایک جامع توسیع کی یقین دہانی نہیں کروائی۔

کالاس نے کہا ہے کہ ایسپائیڈس کے لیے ابتدائی منصوبہ بندی کے مطابق  کم از کم 10 جہاز مطلوب تھے لیکن اس کے بعد سے سلامتی کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے لہٰذا نیا مطالبہ،براستہ نہر سویز  بحر ہند کو بحیرہ روم سے ملانے والی سمندری راہداری میں درپیش  خطرے کے بارے میں، یورپ میں بڑھتے ہوئے خدشات کو ظاہر کرتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس راہداری کی رکاوٹیں بحری نقل و حمل، رسدی زنجیر اور توانائی کی منڈیوں کو متاثر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

دریافت کیجیے
ایران نےمذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے کا شرط نامہ پیش کردیا
امریکہ کا منشیات کی ترسیل کرنے والے جہاز پر حملہ، 4 افراد ہلاک
اسرائیل کا غزہ پر حملہ، چار فلسطینی ہلاک
ڈیموکریٹ سینیٹر نے اسرائیل کو 2.8 بلین ڈالر کے اسلحے  کی فروخت روک دی
ترک صدر ایردوان نیویارک روانہ،جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے
ایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی   اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
صدر ایردوان کا یوم غازی کے حوالے سے پیغام
یورپ میں تعلیمی بحران: PISA کے نتائج تاریخ کی کم ترین سطح پر
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا امریکہ کی طرف سے صدرِ فلسطین کو ویزا نہ جاری کرنے پر اظہارِ افسوس
پاکستان میں دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"
پاکستان میں مسجد کے قریب دھماکہ،  کم ازکم  15 افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی،  لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
روس اور یوکرین میں کل شب کے حملوں میں متعدد افراد زخمی