جاپان کے وزیرِ خارجہ توشیمیتسو موتیگی نے فلسطین کے لیے بین الاقوامی حمایت میں مضبوط انداز میں اضافے کی امید ظاہر کی اور کہا ہے کہ " دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے فلسطین کا برقرار رہنا نہایت ضروری ہے"۔
جاپانی سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے 'NHK' کے مطابق موتیگی نے یہ بیان بدھ کے روز فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقدہ ‘فلسطین کی ترقی کے لیے مشرقی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون کانفرنس’ کے وزارتی اجلاس کی مشترکہ صدارت کے دوران دیا ہے۔
فلسطین کی حمایت پر تبادلۂ خیال کے لیے منعقدہ اس کانفرنسی فریم ورک کا آغاز 2013 میں جاپان کی قیادت میں کیا گیا تھا۔
اجلاس میں فلسطینی اتھارٹی اور مشرقی ایشیا کے مختلف ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔
سہ فریقی تعاون
کانفرنس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے موتیگی نے کہا ہےکہ یہ فریم ورک درمیانی اور طویل مدت میں انسانی وسائل کی ترقی کے ذریعے فلسطین کے ریاستی اداروں کی تعمیر اور ریاست بننے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے صحت، تعلیم، زراعت اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں ہنر مند اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی ترقی کو اس کی نمایاں مثال قرار دیا ہے۔
موتیگی نے مزید کہا ہے کہ شراکت دار ممالک کا اپنی اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فلسطین کی مدد کے لیے مشترکہ یعنی سہ فریقی تعاون کی شکل میں کام کرنا نہایت اہم ہے۔
واضح رہے کہ جاپان مسلسل دو ریاستی حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے مناسب وقت اور طریقۂ کار کا جائزہ لے رہا ہے اسی لیے اس نے اب تک فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔
ٹوکیو نے 1993 سے اب تک فلسطینی عوام کو 2.8 ارب امریکی ڈالر کی امداد فراہم کی ہے۔ اس امداد میں سے تقریباً 410 ملین امریکی ڈالر اکتوبر 2023 سے اب تک بھیجی گئی انسانی امداد اور امدادی سامان پر مشتمل ہیں۔















