چین نے منگل کے روز جنوبی بحیرہ چین میں متنازع "رینائی جیاؤ" چٹان کے قریب فلپائنی اہلکاروں کے ساتھ ہونے والی سمندری جھڑپ کی فوٹیج جاری کر دی ہے۔
چین نے فلپائنی فورسز پر چینی کوسٹ گارڈ کی ایک پٹرولنگ کشتی کو جان بوجھ کر ٹکر مارنے اور چینی اہلکاروں پر حملہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔
یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کی تازہ ترین کڑی ہے۔
سرکاری سرپرستی میں چلنے والے میڈیا ادارے چائنا ڈیلی کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو ہوا بھری ربڑ کی کشتیوں پر سوار اہلکار رینائی جیاؤ کے قریب ایک چینی پٹرولنگ جہاز کے قریب پہنچ رہے ہیں جسے سیکنڈ تھامس شول بھی کہا جاتا ہے اور یہ اس خطے کے سب سے زیادہ متنازع سمندری مقامات میں سے ایک ہے۔
چین اور فلپائن نے پیر کے روز متنازع جنوبی بحیرہ چین کے پانیوں میں جہازوں کے درمیان تصادم کے بعد ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے۔
منیلا نے دعویٰ کیا کہ اس کے بحری اہلکاروں میں سے ایک کے سر پر چوٹ آئی ہے جبکہ بیجنگ نے مؤقف اختیار کیا کہ اس واقعے کو منیلا نے ہی ہوا دی تھی۔
یہ فوٹیج واقعے کے رونما ہونے کے ایک دن بعد جاری کی گئی ہے۔
چینی کوسٹ گارڈ نے بیان دیا ہے کہ ان کے اہلکاروں نے زبانی انتباہ، دفاعی پینترے بازی اور انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے چینی قوانین کے مطابق جوابی اقدامات کیے۔
بیجنگ نے منیلا پر حقائق کو مسخ کرنے کا الزام بھی لگایا اور فلپائن سے مطالبہ کیا کہ وہ ان اقدامات کو فوری طور پر بند کرے جنہیں چین اپنے دعویٰ کردہ پانیوں میں اشتعال انگیز کارروائیاں قرار دیتا ہے۔














