امریکی سینٹرل کمانڈ 'سینٹ کوم' نے کہا ہے کہ "ہم نے آج مسلسل گیارہویں رات بھی ایران میں فوجی اہداف پر فضائی حملے کئے ہیں"۔
سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں سینٹ کوم نے کہا ہے کہ"ہماری افواج نے آج مشرقی امریکی وقت کے مطابق شام 7:00 بجے ایران کےفوجی اہداف پر مسلسل گیارہویں رات حملے شروع کئے ہیں۔ ان حملوں کا مقصد ایران کی، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ پیدا کرنے کی ، صلاحیت کو کم کرنا ہے۔"
اس بیان سے فوراً بعد فارس نیوز ایجنسی کی شائع کردہ خبر کے مطابق ایران کے شمال مغربی شہر تبریز کے جنوبی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
فارس نیوز نے ایران کے دارالحکومت تہران کے مشرقی حصے میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کئے جانے کی بھی اطلاع دی ہے۔
پینٹاگون نے لاپتہ امریکی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی
دوسری جانب، پینٹاگون نے منگل کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اردن میں ایک فوجی اڈے پر دشمن کے حملے کے بعد لاپتہ قرار دیئے گئے امریکی فوجی کو اب مردہ خیال کیا جا رہا ہے۔
امریکہ وزارتِ دفاع نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ"نیویارک کے علاقے اوزون پارک کے رہائشی 28 سالہ سارجنٹ' اینجل ایس۔ ریمپرسیڈ' کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ وہ 17 جولائی 2026 کو اردن کے موافق السلطی ایئر بیس پر دشمن کے حملے کے دوران لڑائی میں ہلاک ہوگئے ہیں۔"
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے سارجنٹ ریمپرسیڈ کو "لاپتہ" قرار دیا تھا۔
امریکہ اور ایران نے گزشتہ ماہ پاکستان کی ثالثی میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے تھے، جس کا مقصد فروری میں شروع ہونے والی جھڑپوں کا خاتمہ اور ایک مستقل امن معاہدے تک پہنچنا تھا۔ تاہم گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں ایک بار پھر اضافے کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملے شروع کر دیئے ہیں۔














