کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے کہا ہے اوٹاوا، واشنگٹن کے ساتھ تجارتی مذاکرات کو مزید آگے بڑھانے پر تیار ہے۔
وزیر اعظم کارنی نے امریکی انتظامیہ کے کینیڈا کی متعدد درآمدی مصنوعات پر 50 فیصد درآمدی محصول عائد کرنے کے منصوبے پر ردِعمل کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ "یہ کاروائی امریکہ کی جانب سے، کینیڈا۔امریکہ۔میکسیکو معاہدے 'CUSMA' کی براہِ راست خلاف ورزی کر کے، اٹھائے گئے یکطرفہ تجارتی اقدامات کی تازہ ترین کڑی ہے۔"
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نےکینیڈا کے امریکی گاڑیوں، الکحل مشروبات اور دودھ سے تیار ہونے والی مصنوعات کے ساتھ غیرمنصفانہ امتیازی سلوک کرنے کے موقف کے ساتھ کینیڈا سے بیشتردرآمدی اشیاء پر 50 فیصد محصول لگا دیا تھا۔
338ویں شق
ٹیرف اقدام سے باخبر ایک کینیڈین عہدیدار نےکہا ہے کہ چین کے بعدکینیڈا اُن چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے ٹرمپ کی سابقہ ٹیرف پالیسیوں کے جواب میں جوابی محصولات عائد کئے تھے اور اسی وجہ سے اب اسے اس کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔
50 فیصد درآمدی محصولات کا اطلاق توانائی کی مصنوعات، پوٹاش، مچھلی اور اہم معدنیات پر نہیں ہوگا۔ تاہم امریکہ۔میکسیکو۔کینیڈا معاہدے 'USMCA' کے تحت قبل ازیں ٹیرف سے مستثنیٰ درآمدی اشیاء اب محصولات کے دائرے میں شامل ہوں گی۔
یہ تجارتی معاہدہ 2020 میں نافذ ہوا تھا۔ حال ہی میں معاہدے کی معیاد ختم ہو نے کے بعد فریقین کے درمیان ایک نئے مذاکراتی عمل کا آغاز ہو چکا ہے، جو 2036 تک جاری رہ سکتا ہے۔















